حدیث نمبر: 4601
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اناج خریدے تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ نہ لے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 54 (2132)، 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3496)، (تحفة الأشراف: 5707)، مسند احمد (1/252، 256، 368، 369)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4603، 4604 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اناج خریدے تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ نہ لے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4601]
اردو حاشہ: تولنا بھی قبضے میں لینے کی صورت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4601 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2135 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2135. حضرت عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے جس چیز سے منع فرمایا وہ غلہ ہے جسے قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کیا جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق ہر چیز کا یہی حکم ہے (کہ اسے قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہیں کرنا چاہیے)[صحيح بخاري، حديث نمبر:2135]
حدیث حاشیہ: یعنی کہ کوئی بھی چیز جب خریدی جائے تو قبضہ کرنے سے پہلے اسے نہ بیچا جائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2135 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2132 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2132. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی قبضہ کرنے سے پہلے غلہ فروخت کرے۔ (راوی حدیث حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ)میں نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ ایسا کرنا کیوں منع ہے؟ فرمایا کہ یہ تو دراہم کے عوض دراہم فروخت کرنا ہے جبکہ غلہ بعد میں دیا جاتا ہے۔ ابو عبد اللہ(امام بخاری)کہتے ہیں کہ قرآنی لفظ مُرْجَوْنَ کے معنی ہیں۔ ’’ان کا معاملہ (اللہ کے حکم تک کے لیے)مؤخر کردیا گیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2132]
حدیث حاشیہ: اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید نے دو من گیہوں عمرو سے دو روپے کے بدلے خریدے اور عمرو سے یہ ٹھہرا کہ دو مہینے بعد گیہیوں دے۔
اب زید نے ہی گیہوں بکر کے ہاتھ سے چار روپیہ کو بیچ ڈالا تو درحقیقت زید نے گویا دو روپے کو چار روپیہ کے بدل میں بیچا جو صریحاً سود ہے کیوں کہ گیہوں کا ابھی تک وجود ہی نہیں وہ تو دو ماہ بعد ملیں گے اور روپیہ کے بدل روپیہ بک رہا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2132 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2132. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی قبضہ کرنے سے پہلے غلہ فروخت کرے۔ (راوی حدیث حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ)میں نے ابن عباس ؓ سے کہا کہ ایسا کرنا کیوں منع ہے؟ فرمایا کہ یہ تو دراہم کے عوض دراہم فروخت کرنا ہے جبکہ غلہ بعد میں دیا جاتا ہے۔ ابو عبد اللہ(امام بخاری)کہتے ہیں کہ قرآنی لفظ مُرْجَوْنَ کے معنی ہیں۔ ’’ان کا معاملہ (اللہ کے حکم تک کے لیے)مؤخر کردیا گیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2132]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کا مقصد اور استدلال پہلی حدیث کے فوائدمیں بیان ہوچکا ہے۔
ہم حضرت ابن عباس ؓ کے موقف کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ زید نے عمر سے دو من غلہ دوسوروپے میں خریدا اور یہ طے پایا کہ غلہ دوماہ بعد دیا جائے گا۔
اب زید نے خرید کردہ دو من غلہ بکر کو چار سوروپے میں فروخت کردیا۔
یہ صریح سود ہے کیونکہ غلے کا ابھی تک وجود نہیں وہ تو دوماہ بعد ملے گا اب تو روپوں کے عوض روپے فروخت کیے گئے ہیں۔
(2)
چونکہ روایت میں (والطعام مُرْجُاً)
کے الفاظ آئے تھے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسی مناسبت سے قرآنی آیت ﴿وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّـهِ﴾ کی لغوی تشریح فرمائی کہ اس کے معنی مؤخر کرنے کے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1525 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اناج خریدا تو وہ اسے ناپ لینے تک فروخت نہ کرے۔‘‘ طاؤس کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے پوچھا: ممانعت کا کیا سبب ہے؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے جواب دیا کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ لوگ سونے کے عوض اناج فروخت کرتے ہیں حالانکہ وہ بعد میں ملنا ہوتا ہے، ابو کریب کی روایت میں مرجا [صحيح مسلم، حديث نمبر:3839]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصد یہ تھا، ایک انسان نے غلہ خریدا لیکن ابھی وہ ملا نہیں ہے، اور اسے آگے فروخت کر دیا، تو یہ در حقیقت سونے کی سونے سے بیع ہوئی ہے اور اس میں کمی و بیشی جائز نہیں ہے حالانکہ اس نے مثلاً سو روپے میں خرید کر، اس کو ایک سو بیس کے عوض فروخت کر دیا، اور یہ رقم کا رقم سے تبادلہ ہوا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1525 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1525 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے غلہ، اناج خریدا تو وہ اسے پورا پورا لینے سے پہلے فروخت نہ کرے۔‘‘ ابن عباس کہتے ہیں، میرے نزدیک ہر چیز کا حکم ایسا ہی ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3836]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
حتي يستوفيه: حتیٰ کہ اس کو ماپ یا تول یا گن لے، لیکن اس کا قبضہ میں لینا، اس معنی کی رو سے شرط نہیں ہے، لیکن یہاں یہ لفظ قبضہ کے معنی میں ہی ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی جگہ حتي يقبضه، حتیٰ کہ قبضہ میں لے لے کا لفظ موجود ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
قبضہ کا مفہوم: قبضہ یہ ہے کہ شئی مشتری کی حرز تحفظ وپناہ اور ضمانت (ذمہ داری)
میں آ جائے، اس لیے امام مالک اور احناف کے ہاں قبضہ، تخلیہ یعنی بائع کا شئی سے دستبردار ہو جانا اور مشتری کو اپنے تحفظ میں لینے کا موقع دینے کا نام ہے اور شوافع و حنابلہ کے ہاں غیر منقولہ اشیاء میں قبضہ، تخلیہ کا نام ہے اور منقولہ اشیاء میں نقل و تحویل (خریدی ہوئی جگہ سے نقل کرتا ہے)
اور امام بخاری کے نزدیک حق تصرف تسلیم کر لینا ہے، لیکن صحیح بات یہی ہے کہ منقول اشیاء میں قبضہ نقل و تحویل کا نام ہے، جیسا کے حضرت زید بن ثابت کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سامان خریدا ہے وہاں بیچنے سے منع کیا، جب تک کہ تاجرا سے اپنی جگہ میں محفوظ نہیں کر لیتا۔
(2)
امام شافعی اور امام محمد بن الحسن کے نزدیک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرح قبضہ سے پہلے کسی چیز کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے، کیونکہ خریدار جب تک سامان پر قبضہ نہیں کر لیتا، بائع کا حق تصرف پوری طرح ختم نہیں ہوتا اور وہ اگر اسے زیادہ منافع ملے تو سودا فسخ کر سکتا ہے یا قبضہ دینے سے ٹال مٹول کر سکتا ہے، اور آج کل بقول علامہ تقی یہ حکمت بھی ظاہر ہوئی ہے کہ اس سے سٹہ کو فروغ مل رہا ہے جس سے اشیاء بہت مہنگی ہو جاتی ہیں، مثلا ایک بحری جہاز جاپان سے کسی تاجر کا سامان لارہا ہوتا ہے اور سامان ابھی راستہ میں ہی ہوتا ہے کہ وہ منگوانے والا تاجر وہ سامان دوسرے تاجر کو بیچ دیتا ہے اور دوسرا تاجر تیسرے تاجر کو بیچ دیتا ہے اس طرح جہاز کے لنگر انداز ہونے سے پہلے پہلے سامان کئی دفعہ بک جاتا ہے، اس طرح وہ چیز جو جاپان سے دس روپے میں چلی تھی، راستہ میں ہی بار بار بکنے سے وہ چیز سو دو سو تک پہنچ جاتی ہے اور ابھی کسی کے قبضے میں نہیں آئی اور نہ وہ سامان کسی نے دیکھا ہے، حالانکہ یہ سامان راستہ میں تباہ بھی ہو سکتا ہے (تکلمۃ فتح الملھم: ج1، ص: 354)
لیکن اس پر سوال یہ ہے کہ قبضہ کا مطلب، احناف کے نزدیک بائع کا سامان سے دستبردار ہو جانا ہی مشتری کو تصرف کاحق دے دینا ہے، اور یہاں ہر تاجر دوسرے کے حق میں دستبردار ہو گیا ہے اور اس کے حق ملکیت کو تسلیم کر لیا ہے، اس لیے اس نے آگے بیچا ہے، اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ یہ طریقہ اس حدیث کے خلاف ہے جسے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، آپﷺ نے فرمایا: لا تبع ما ليس عندك جو چیز تیرے پاس نہیں ہے اس کو فروخت نہ کرے، یا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صادق آتا ہے کہ جب ایک چیز خریدی ہے، لیکن وہ اپنے قبضہ میں نہیں لی، اور وہ آگے بیچ دی، تو یہ تو رقم کا رقم سے سودا ہوا ہے، کیونکہ سامان آیا نہیں ہے، نہ دیکھا ہے تو ایک تاجر نےاس کو مثلا بیس روپیہ میں خرید لیا، دوسرے کو پچیس میں بیچ دیا ہے، اس نے تیسرے کو تیس میں بیچ دیا ہے، اس طرح ہر تاجر، رقم کا رقم سے سودا کر رہاہے، سامان تو ابھی غائب ہے اور غرر کا بھی احتمال ہے کہ مال راستہ میں ضائع ہو جائے۔
امام احمد کا بھی ایک قول امام شافعی والا ہے، اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اس موقف کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
(شرح صحیح مسلم: ج 4/ص162) (3)
امام احمد اور اسحاق کے نزدیک ماپ و تول سے تعلق رکھنے والی اشیاء کا قبضے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے، باقی اشیاء بیچنا جائز ہے، اور بقول علامہ ابن قدامہ نہی کا تعلق امام احمد کے نزدیک صرف اناج اور غلہ سے ہے۔
(4)
امام مالک کے نزدیک غلہ کیلی ہو یا وزنی۔
اس کا قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے اور قاضی عیاض مالکی نے ہر اس چیز کی قبضہ سے پہلے بیع ناجائز قرار دی ہے جس کا تعلق ناپ تول یا عدد سے ہو، اور سحنون اور ابن حبیب نے اس کے ساتھ غلہ ہونے کی شرط لگائی ہے اور ابن وہب نے کہا اس کا تعلق ربوی (سودی)
اشیاء سے ہے۔
(5)
امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک منع کا تعلق منقول اشیاء سے ہے، غیر منقول اشیاء سے نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1525 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1291 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کر لے ۱؎، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں ہر چیز کو غلے ہی کے مثل سمجھتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1291]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
خریدوفروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز پر خریدارجب تک مکمل قبضہ نہ کر لے اسے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے، اوریہ قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہوگا، نیز اس سلسلہ میں علاقے کے عرف (رسم ورواج) کا اعتباربھی ہوگا کہ وہاں کسی چیز پر کیسے قبضہ ماناجاتا ہے مثلاً منقولہ چیزوں میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو مشتری بائع کی جگہ سے اپنی جگہ میں منتقل کرلے یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے اور اندازہ کی جانے والی چیز کی جگہ بدل لے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1291 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3496 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے۔‏‏‏‏ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3496]
فوائد ومسائل:
ان تعلیمات کی حکمتیں واضح ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ منڈی میں جمود نہ رہے۔
مال اور سرمایا حرکت میں آئے۔
مزدوروں کو مزدوری اور لوگوں کو رزق آسانی اور ارزانی سے ملے۔
آج کل اشیاء کے مہنگے ہونے کا بڑا سبب ہی یہی ہے۔
کہ مال ایک جگہ سٹور میں پڑا ہوتا ہے۔
اورسرمایا دار اسے وہیں ا یک دوسرے کو فروخت کرتے چلے جاتے ہیں۔
یا مال ابھی ایک خریدار کے قبضے میں آیا نہیں ہوتا کہ وہ اسے آگے فروخت کردیتا ہے۔
اور وہ پھر اسے آگے فروخت کردیتا ہے۔
یہ سب صورتیں شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔
اوران کا حاصل کمرتوڑ مہنگائی ہے۔
ولاحول ولا قوة إلا باللہ
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3496 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4604 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گیہوں خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے۔‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر چیز گیہوں ہی کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4604]
اردو حاشہ: حضرت ابن عباسؓ کا یہ خیال صحیح ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ایک روایت میں عموم کے الفاظ آتے ہیں کہ تو کوئی چیز بھی نہ بیچ حتیٰ کہ اسے قبضے میں لے۔ سنن ابوداود میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے: [أن النبي ﷺ نهى أن تُباعَ السلعُ حيث تُبتاعُ حتى يحوزها التجارُ إلى رحالهم] بلا شبہ رسول اللہ ﷺ نے خریدنے کی جگہ ہی پر مال کو بیچنے سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ تاجر اسے اپنی منزل (دو کانوں اور سٹوروں وغیرہ) پر لے جائیں۔ (سنن أبي داود، البیوع، حدیث: 3499) یہ حدیث مبارکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے تفقہ فی الدین کی بڑی واضح اور صریح دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4604 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 518 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
518- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے، وہ ایسا اناج ہے، جسے پورا (ناپنے) سے پہلے فروخت کردیا جائے۔ یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: یہاں تک کہ اسے ناپ لیا جائے۔ سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی رائے یہ بیان کی ہے: میں یہ سمجھتا ہوں، ہر چیز کا حکم اس کی مانند ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:518]
فائدہ:
اس حدیث میں خرید و فروخت کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ ایک جگہ مال پڑا ہوا ہے، وہاں سے خرید کر اس کو اپنے قبضے میں لے لے، پھر اس کو آگے کسی کو فروخت کر سکتا ہے، اس میں بے شمار حکمتیں ہیں، جن کا ہر کسی کو ادراک نہیں ہے۔ موجودہ دور میں اس مقبول حدیث کی بہت زیادہ مخالفت کی جا رہی ہے، الا مـن رحم ربی۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 518 سے ماخوذ ہے۔