حدیث نمبر: 4598
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْمُلَائِيِّ , عَنْ سُفْيَانَ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَنْظَلَةَ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمِكْيَالُ عَلَى مِكْيَالِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَالْوَزْنُ عَلَى وَزْنِ أَهْلِ مَكَّةَ " , وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «مکیال» ( ناپنے کا آلہ ) مدینے والوں کا معتبر ہے اور وزن اہل مکہ کا معتبر ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4598
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2521 ب) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2521/م (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2521 | سنن ابي داود: 3340

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جھکتا ہوا تولنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مکیال» (ناپنے کا آلہ) مدینے والوں کا معتبر ہے اور وزن اہل مکہ کا معتبر ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4598]
اردو حاشہ: (1) اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دو استاد ہیں: ایک اسحاق بن ابراہیم اور دوسرے محمد بن اسماعیل۔ روایت کے مذکورہ الفاظ استاد اسحاق (بن راہویہ) کے ہیں۔ دوسرے استاد محمد بن اسماعیل (ابن علیہ) کے بیان کردہ الفاظ ان سے قدرے مختلف ہیں۔
(2) عرب میں باقاعدہ حکومت نہیں تھی کہ ایک ہی وزن اور ایک ہی ماپ رائج ہو بلکہ مختلف وزن اور ماپ رائج تھے۔ شریعت میں زکاۃ، عشر، کفارات و دیگر ضروریات کے احکام نازل ہوئے تو وزن اور ماپ معین کرنا ضروری تھا۔ رسول اللہ ﷺ ایک منظم حکومت بھی وجود میں لا چکے تھے، لہٰذا انتظامی لحاظ سے بھی وزن اور ماپ کے پیمانے معین کرنا ضروری تھے، اس لیے آپ نے وزن مکے والوں کا اور ماپ مدینے والوں کا سرکاری اور شرعی طور پر معین فرما دیا۔ اس دور میں وزن عموماً سونے چاندی اور دیگر دھاتوں کا ہوتا تھا۔ غلے میں ماپ رائج تھا۔ مدینہ منورہ کے لوگ زمیندار تھے۔ وہاں غلہ وافر ہوتا تھا، اس لیے آپ نے ماپ، یعنی مد، صاع اور وسق وغیرہ مدینہ منورہ کے رائج فرمائے۔ مکے والوں کے ہاں دس درہم سات دینار کے وزن کے برابر ہوتے تھے اور دینار ساڑھے چار ماشے کا ہوتا تھا۔ اب زکاۃ ودیت وغیرہ میں یہی وزن معتبر ہوگا۔ اور عشر وصدقۃ الفطر اور کفارات میں مدینے والوں کا مد وصاع معتبر ہوگا۔ مدینے والوں کا صاع معتبر ہوگا۔ مدینے والوں کا صاع چار مد کا ہوتا تھا۔ وزن میں یہ 3/51 رطل کے برابر تھا۔ مد اور صاع برتن تھے جن میں وہ غلہ اور کھجوریں ڈال کر ماپا کرتے تھے۔ آج کل غلے اور کھجوروں کا وزن کیا جاتا ہے، اس لیے مد اور صاع کے وزن میں اختلاف ہو گیا ہے۔ ویسے بھی ایک ہی برتن میں ڈالی جانے والی اشیاء کا وزن ایک نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک کا وزن الگ الگ ہوگا، مثلاً: پانی، دودھ، پارہ، شربت، کھجور، گندم، چینی وغیرہ اپنا الگ الگ وزن رکھتے ہیں۔ درہم، دینار اور مد وصاع بعد میں بھی بدلتے رہے ہیں۔ مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے حساب سے کمی بیشی کی مگر شریعت میں آپ کے دور کے درہم، دینار اور مد و صاع ہی وزن اور ماپ میں معتبر ہوں گے، مثلاً: کوفی صاع مدینے کے صاع سے بڑا تھا، لیکن صدقۃ الفطر وغیرہ میں مدینے کا صاع ہی چلے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4598 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2521 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صاع کتنے مد کا ہوتا ہے۔`
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے آج کے مد سے ایک مد اور ایک تہائی مد اور کچھ زائد کا تھا۔ اور ابوعبدالرحمٰن فرماتے ہیں: اس حدیث کو مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2521]
اردو حاشہ: پیمانے اور وزن ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، ایک جیسے نہیں رہتے، مد، صاع، درہم اور مثقال بھی چھوٹے بڑے ہوتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے شریعت میں معتبر پیمانہ اور وزن تو وہی ہے جو رسول اللہﷺ کے دور میں تھا۔ آپ کے دور میں صاع چار مد کا تھا اور ایک مد وزن کے لحاظ سے ایک اور تہائی رطل 11/3 کا تھا۔ اسی طرح صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا تھا، یعنی 51/3 رطل۔ اور رطل 90 مثقال کا۔ اس لحاظ سے صاع کے وزن کی تفصیل حدیث 2515 میں گزر چکی ہے جو تقریباً ڈھائی کلو بنتا ہے۔ بعد میں مد اور صاع بڑا بنا دیا گیا۔ مد بجائے 11/3 رطل کے 23 رطل کا کر دیا گیا۔ اسی طرح صاع آٹھ رطل کا ہوگیا۔ احناف نے اس صاع کو اختیار کیا ہے، حالانکہ وہ صاع نبوی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جب مدینہ منورہ گئے اور ان کا امام مالک رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں مباحثہ ہوا تو انھوں نے اپنے مسلک سے رجوع کر لیا کیونکہ امام مالک رحمہ اللہ نے ان کو مدینہ منورہ کے مختلف گھروں سے رسول اللہﷺ کے دور کے صاع منگوا کر دکھائے جو ایک دوسرے کے برابر تھے۔ اور یہ صاع اہل مدینہ نے وراثتاً اپنے آباؤ اجداد سے حاصل کیے تھے۔ اور یہی صاع صحیح ہے۔ جمہور اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ امام ابو یوسف نے فرمایا تھا کہ اگر میرے استاد امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ یہ صاع دیکھ لیتے تو وہ بھی اس کے قائل ہو جاتے۔ گویا حنفیہ کا صاع شرعی صاع نہیں ہے، لہٰذا عشر اور صدقۃ الفطر میں مدنی صاع ہی معتبر ہوگا نہ کہ حنفیہ والا صاع جو بعد میں بنایا گیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2521 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3340 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پیمانوں میں (معتبر) مدینہ کا پیمانہ ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ «عن ابن عباس» کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن (باٹ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3340]
فوائد ومسائل:
شرعی ادائیگیوں (زکواۃ او ر فطرانہ وغیرہ) میں وزن اہل مکہ کا معتبر ہے۔
اور مد اور صاع اہل مدینہ کا اشیاء کی مقدار کا تعین کرنے کے لئے ناپ تول کا نظام وجود میں آیا۔
یہ عمل تجارت کی انتہائی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔
مختلف علاقوں کے ناپ تول کے پیمانوں کے ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناپ تول کےلئے بنیادی اکائی قدرتی اشیاء کو بنایا گیا۔
برصغیر میں جوتولے چھٹانک سیر کا نظام رائج تھا اس کی بنیادی اکائی رتی تھی۔
یہ ایک پودے کا سرخ رنگ کا بیج ہے۔
اب جو نظام دنیا کے بڑے حصے میں رائج ہے۔
یعنی کلو گرام تو گرام چنے کے دانے کو کہتے ہیں۔
جسے ابتداء میں بنیادی اکائی مانا گیا اونس اور پاوئنڈ کا برطانوی نظام گرین (Grain) پر مبنی ہے۔
جو غلے بالخصوص مکئی کے دانے کو کہتے ہیں۔
پیمائش میں فٹ (پائوں) یا ہاتھ وغیرہ کو بنیاد بنایا گیا۔
ظاہر ہے مکئ یا چنے کے ہردانے کا وزن ایک سانہیں ہوسکتا۔
تعامل کے ساتھ اس کم از کم مقدار کو حتمی طور پر متعین کر لیا گیا۔
اور اس طرح ایک ہی معیار کے تولنے کے باٹ وغیرہ وجود میں آئے۔
تعامل یا زیادہ سے زیادہ برتنے کا عمل ناپ تول کے نظام میں کی تکمیل میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔
چونکہ مدینہ ایک زرعی شہر تھا۔
جہاں لین دین میں ناپ یا کیل رائج تھا۔
مدینہ کے تعامل نے اس نظام کو پختہ کردیا تھا۔
اس لئے ناپ میں اہل مدینہ کے پیمانوں کو بنیادی معیار قرار دیا۔
مکہ ہر طرح کی اشیاء تجارت کا مرکز تھا جن میں قیمتی اشیاء بھی شامل تھیں۔
سونے چاندی خوشبودار مصالحے وغیرہ کا لین دین وزن سے ہوتا ہے۔
مکہ کے تعامل نے وزن کے نظام کو پختہ کردیا تھا۔
اس لئے وزن میں مکہ کے تعامل (Practice) کو معیار قرار دیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3340 سے ماخوذ ہے۔