حدیث نمبر: 4590
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ : " فِي قَبْضِ الدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَرْضٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ` درہم طے کر کے کر دینار لینے کو وہ ناپسند کرتے تھے جب وہ قرض کے طور پر ہوں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18418) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔`
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ درہم طے کر کے کر دینار لینے کو وہ ناپسند کرتے تھے جب وہ قرض کے طور پر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4590]
اردو حاشہ: یہ اس لیے کہ قرض کی صورت میں امکان ہے کہ قرض خواہ قیمت کی صورت میں کچھ مفاد حاصل کرے گا اور جب قرض سے کوئی مفاد حاصل کیا جائے گا تو وہ سود بن جاتا ہے لیکن یہ صرف ایک امکان ہے۔ اس کی وجہ سے دراہم کی جگہ دینار لینے سے منع نہیں کیا جا سکتا بشرطیکہ کوئی مفاد حاصل نہ کیا جائے جیسا کہ آئندہ حدیث میں ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4590 سے ماخوذ ہے۔