حدیث نمبر: 4588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ , وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ` وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: سعید بن جبیر سے اسی سند سے نمبر ۴۵۹۲ پر جو روایت ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4586 (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔`
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4588]
اردو حاشہ: ان کے ناپسند کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں جب کہ نبی ﷺ سے صراحتاً اس کا جواز ثابت ہے۔ ہاں، قرض کی صورت میں ان کے قول کی معقول وجہ ہو سکتی ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4588 سے ماخوذ ہے۔