حدیث نمبر: 4568
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ , عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ , وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ , وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " , وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ يَعْقُوبَ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا سونے کے بدلے ، ڈلا ہو یا سکہ ، برابر برابر ہو ، چاندی چاندی کے بدلے ڈالا ہو یا سکہ ، برابر برابر ہو ، نمک نمک کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، گیہوں گیہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر اور یکساں ہو ، لہٰذا جو زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود لیا “ ۔ یہ الفاظ محمد بن المثنیٰ کے ہیں ، ابراہیم بن یعقوب نے ” جَو جَو کے بدلے “ کا ذکر نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4568
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظرما قبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، ڈلا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، چاندی چاندی کے بدلے ڈالا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، نمک نمک کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر اور یکساں ہو، لہٰذا جو زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود لیا۔‏‏‏‏ یہ الفاظ محمد بن المثنیٰ کے ہیں، ابراہیم بن یعقوب نے جَو جَو کے بدلے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4568]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ روایت دو استادوں سے بیان کی، ایک محمد بن مثنیٰ اور دوسرے یعقوب بن ابراہیم۔ دونوں استاد ساری روایت ایک جیسی بیان کرتے ہیں لیکن یہ جملہ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ صرف استاد محمد بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں، دوسرے استاد نے یہ جملہ بیان نہیں کیا۔
(2) مذکورہ روایت بیان کرنے والے ایک استاد کا نام سنن نسائی میں یعقوب بن ابراہیم بیان کیا گیا ہے۔ سنن النسائی (المجتبیٰ) کے تمام نسخوں میں یہی نام مذکور ہے لیکن یہ غلط ہے۔ درست نام ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ کے ایک استاد یعقوب بن ابراہیم الدورقی بھی ہیں لیکن مذکورہ روایت ان کی بیان کردہ نہیں بلکہ یہ ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی کی بیان کردہ ہے۔ یہ تمام تر وضاحت حافظ مزی رحمہ اللہ نے تحفۃ الاشراف میں بیان کی ہے۔ دیکھیے: (تحفة الأشراف: 4/ 450) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للاتبوبي: 34/ 362)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4568 سے ماخوذ ہے۔