سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ مُتَفَاضِلاً باب: کھجور کے بدلے کھجور کمی زیادتی کے ساتھ بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4561
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ : أَتَى بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ , فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " , قَالَ :اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوِّهْ , عَيْنُ الرِّبَا لَا تَقْرَبْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی نامی کھجور لائے ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ وہ بولے : یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” افسوس ! یہ تو عین سود ہے ، اس کے نزدیک مت جانا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´کھجور کے بدلے کھجور کمی زیادتی کے ساتھ بیچنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی نامی کھجور لائے، تو آپ نے فرمایا: ” یہ کیا ہے؟ “ وہ بولے: یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ” افسوس! یہ تو عین سود ہے، اس کے نزدیک مت جانا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4561]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی نامی کھجور لائے، تو آپ نے فرمایا: ” یہ کیا ہے؟ “ وہ بولے: یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ” افسوس! یہ تو عین سود ہے، اس کے نزدیک مت جانا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4561]
اردو حاشہ: (1) کھجور کو کھجور کے بدلے میں، کمی بیشی کے ساتھ بیچنا حرام ہے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم وقت کو اپنی رعایا اور متعلقہ لوگوں کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے، اسے ان کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ امام اور ذمہ دار شخص جب کوئی ایسی بات سنے جو شرعاََ جائز ہو یا ایسی چیز اور معاملہ دیکھے جو شرعاََ حرام ہو تو اسے حرام کام کرنے والوں کو نہ صرف روکنا چاہیے بلکہ حق کی طرف ان کی رہنمائی بھی کرنی چاہیے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی صریح دلیل ہے کہ خبر واحد شرعی حجت ہے۔
(4) ”عین سود“ یعنی خالص سود کیونکہ دونوں طرف ایک ہی جنس ہو تو سودے میں کمی بیشی سود ہے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ امام اور ذمہ دار شخص جب کوئی ایسی بات سنے جو شرعاََ جائز ہو یا ایسی چیز اور معاملہ دیکھے جو شرعاََ حرام ہو تو اسے حرام کام کرنے والوں کو نہ صرف روکنا چاہیے بلکہ حق کی طرف ان کی رہنمائی بھی کرنی چاہیے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی صریح دلیل ہے کہ خبر واحد شرعی حجت ہے۔
(4) ”عین سود“ یعنی خالص سود کیونکہ دونوں طرف ایک ہی جنس ہو تو سودے میں کمی بیشی سود ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4561 سے ماخوذ ہے۔