حدیث نمبر: 4546
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ , وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے ، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4546
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق دون قوله حتى يبدو صلاحه , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/البیوع 83 (2191)، المساقاة 17 (2384)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540)، سنن ابی داود/البیوع 20 (3363)، سنن الترمذی/البیوع 64 (1303)، (تحفة الأشراف: 4646)، مسند احمد (4/2) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔`
سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4546]
اردو حاشہ: تازہ کھجوریں کھا سکیں کیو نکہ درخت والی کھجوریں تو دیر سے حاصل ہونا شروع ہوں گی۔ غریب کے لیے انتظار مشکل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4546 سے ماخوذ ہے۔