سنن نسائي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : فَرْضِ الصَّلاَةِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضى الله عنه - وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِهِمْ فِيهِ باب: نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قال : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا عُرِجَ بِهِ مِنْ تَحْتِهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا أُهْبِطَ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا حَتَّى يُقْبَضَ مِنْهَا ، قَالَ : إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16 ، قَالَ : فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَأُعْطِيَ ثَلَاثًا : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيُغْفَرُ لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِهِ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( معراج کی شب ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے ، یہ چھٹے آسمان پر ہے ۱؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ۲؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں ، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ۳؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں ، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ۴؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ۵؎ ( جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں ) پڑھی اور ( اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ) کہا : وہ سونے کے پروانے تھے ، تو ( وہاں ) آپ کو تین چیزیں دی گئیں : پانچ نمازیں ، سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ۶؎ ، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش ، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (معراج کی شب) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، یہ چھٹے آسمان پر ہے ۱؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ۲؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ۳؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ۴؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ۵؎ (جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں) پڑھی اور (اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے) کہا: وہ سونے کے پروانے تھے، تو (وہاں) آپ کو تین چیزیں دی گئیں: پانچ نمازیں، سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ۶؎، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 452]
➋ بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کے لیے حاضر ہونا اور آپ کا ان کی امامت کروانا آپ کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے جو کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔ ظاہر تو یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام جسمانی طور پر حاضر تھے نہ کہ صرف روحانی طور پر جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر بیت المقدس اور آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ فوت شدہ انبیاء علیہم السلام کے جسم بھی اللہ تعالیٰ محفوظ رکھتا ہے۔ [سنن ابی داود، الصلاة، حدیث: 1047]
اگر انبیاء علیہم السلام صرف روحانی طور پر ہی لائے گئے ہوں تو بھی واقعہ کی اہمیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بہرحال یہ معاملہ برزخ کا ہے جو انسان کی رسائی سے باہر ہے۔
➌عام احادیث میں سدرۃ المنتہیٰ تک جانے کا ذکر ہی ملتا ہے مگر صحیحین کی ایک روایت میں ایک اور مقام پر آپ کے چڑھنے کا ذکر ہے جہاں سے آپ کو قلموں کی سرسراہٹ بھی سنائی دی۔ [صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 349، وصحیح مسلم، الایمان، حدیث: 163]
لیکن اس مقام کا کوئی نام ذکر نہیں کیا گیا۔
➍سورۃ البقرہ کی آخری آیات کا نزول بالاتفاق مدنی ہے اور واقعہ معراج مکی ہے۔ معراج میں سورۂ بقرہ کی آخری آیات دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیات عطا کرنے کا وعدہ کر لیا گیا جب کہ نزول بعد میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ واللہ أعلم۔
➎کبائر کی معافی کی دو صورتیں ہوں گی: جس کواللہ تعالیٰ چاہے گا پہلے مرحلے ہی میں اپنے فضل و کرم سے معاف فرما کر جنت میں داخل فرما دے گا کیونکہ بعض کے بلاتوبہ بھی کبائر معاف ہو جائیں گے، ورنہ جہنم میں سزا بھگت کر پھر معافی ہو گی۔
: (1)
فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ: سونے کے پتنگے، چراغ کی روشنی پر گرنے والے پروانے مراد ہیں۔
(2)
الْمُقْحِمَاتُ: اقحام کا معنی ہوتا ہے، کسی کو بلا سوچے سمجھے داخل کرنا۔
"أَقْحَمَ فَرَسَهُ النَّهْرَ" ’’اپنے گھوڑے کو جبراً نہر میں داخل کیا۔
‘‘ الْمُقْحِمَاتُ: سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جو انسان کی تباہی و بربادی کا باعث ہیں۔
فوائد ومسائل:
(1)
سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان سے شروع ہو کر ساتویں آسمان کے اوپر تک پھیلی ہوئی ہے، اس کی جڑیں چھٹے آسمان پر ہیں اور شاخیں ساتویں پر ہیں۔
(2)
بعض لوگوں کے ایمان کی پختگی اور نیکیوں کی وجہ سے سب گناہ معاف ہو جائیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا کرم واحسان ہے یا پھر بقدر جرم وگناہ عذاب کے بعد ان کے گناہ ختم ہو جائیں گے اور پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
نوٹ:۔
مندرجہ ذیل تین حدیثیں ہندوستانی اور پاکستانی نسخوں میں اگلے باب کے تحت درج ہیں۔
اور ان کا تعلق بھی اگلے باب ہی سے ہے۔
لیکن بیروت نسخے میں مذکورہ بالا باب کے تحت ہیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (معراج کی رات) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، (۱) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، (۲) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» (آخری آیات) عطا کی گئیں، (۳) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، (پھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3276]
وضاحت:
1؎:
ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی (النجم: 16)