سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
حدیث نمبر: 4495
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , وَوَكِيعٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» ( نفع ) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی پھر غلام میں کچھ نقص اور عیب نکل آیا تو خریدار نے اسے بیچنے والے کو لوٹا دیا اس کے کمائی کا حقدار خریدار ہو گا بیچنے والا نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں خریدار ہی اس کا ضامن ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» (نفع) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4495]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» (نفع) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4495]
اردو حاشہ: مثلاً: کسی شخص نے کوئی جانور خریدا، چند دن کے بعد اس میں عیب یا دھوکے کا انکشاف ہوا تو بیع واپس ہو گئی مگر جتنے دن وہ جانور خریدار کے پاس رہا، اس سے حاصل ہونے والا دودھ وغیرہ اسی کا ہو گا کیونکہ ان دنوں اگر اس جانور کا نقصان ہو جاتا تو خریدار کے ذمے پڑتا۔ اسی طرح ان دنوں کے دوران میں خوراک وغیرہ بھی اسی کی ذمہ داری تھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4495 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3508 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3508]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3508]
فوائد ومسائل:
توضیح۔
غلام نے جو کچھ کمایا وہ خریدار کا ہے۔
اس مدت میں اگر اس کے کسی عیب پر مطلع ہوا اور اسے واپس کیا تو صرف غلام واپس ہوگا۔
اس کی کمائی نہیں۔
کیونکہ بالفرض اگران دنوں میں غلام مرجاتا۔
تو یہ نقصان خریدار کا ہی ہوتا۔
توضیح۔
غلام نے جو کچھ کمایا وہ خریدار کا ہے۔
اس مدت میں اگر اس کے کسی عیب پر مطلع ہوا اور اسے واپس کیا تو صرف غلام واپس ہوگا۔
اس کی کمائی نہیں۔
کیونکہ بالفرض اگران دنوں میں غلام مرجاتا۔
تو یہ نقصان خریدار کا ہی ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3508 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3509 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایک شخص نے غلام خریدا اور اسے کام پر لگایا پھر اس میں عیب کا پتہ چلا تو اس کی اجرت خریدار کے ذمہ ہے۔`
(مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3509]
(مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3509]
فوائد ومسائل:
توضیح۔
اس صورت میں غالبا ً مخلد نے اپنے شریک سے اتفاق کئے بغیر کام کروایا۔
اس لئے غلام ان کی ضمان میں ہوگیا۔
اگر شریک سے اتفاق کیا گیا ہوتا تو پھر وہ بھی اس کی آمدنی میں حصہ دار ہوتا۔
(از ترجمہ۔
علامہ وحید الزمان)
توضیح۔
اس صورت میں غالبا ً مخلد نے اپنے شریک سے اتفاق کئے بغیر کام کروایا۔
اس لئے غلام ان کی ضمان میں ہوگیا۔
اگر شریک سے اتفاق کیا گیا ہوتا تو پھر وہ بھی اس کی آمدنی میں حصہ دار ہوتا۔
(از ترجمہ۔
علامہ وحید الزمان)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3509 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2243 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غلام کی کمائی اس کے ضامن مالک سے جڑی ہوئی ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2243]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کر دیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2243]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی آمدنی دینے والی چیز خریدی جائے اور پھر واپس کر دی جائے تو جتنے دن وہ چیز خریدار کے پاس رہی ہے اور اس نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے واپسی کے وقت اس فائدے کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔
اس قانون سے صرف دودھ دینے والا جانور مستثنیٰ ہے جس کو واپس کرتے وقت ایک صاع کھجوریں ساتھ دی جائیں گی۔
(2)
اگر خریدار کے پاس جانور مر جائے یا کوئی دوسری چیز خراب ہو جائے یا تباہ ہو جائے تو یہ نقصان خریدار برداشت کرے گا، اس لیے اگر خریدار کو اس سے کوئی آمدنی ہوتی ہے تو وہ بھی خود رکھے گا، خریدی ہوئی چیز واپس کرتے وقت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بیچنے والے کو واپس نہیں کرے گا۔
(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہی روایت سنن ابی داؤد (3510)
میں بھی ہے، وہاں ہمارے محقق نے اس کی بابت یوں لکھا ہے کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے البتہ سابقہ روایت (3509)
اس سے کفایت کرتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی سنداً ضعیف ہونے باوجود معناً صحیح اور قابل عمل ہے، علاوہ ازیں مذکورہ روایت کو دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
-دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجه للألباني، رقم: 1836، والموسوعة الحديثة مسندالإمام أحمد: 40/ 272، 273)
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی آمدنی دینے والی چیز خریدی جائے اور پھر واپس کر دی جائے تو جتنے دن وہ چیز خریدار کے پاس رہی ہے اور اس نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے واپسی کے وقت اس فائدے کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔
اس قانون سے صرف دودھ دینے والا جانور مستثنیٰ ہے جس کو واپس کرتے وقت ایک صاع کھجوریں ساتھ دی جائیں گی۔
(2)
اگر خریدار کے پاس جانور مر جائے یا کوئی دوسری چیز خراب ہو جائے یا تباہ ہو جائے تو یہ نقصان خریدار برداشت کرے گا، اس لیے اگر خریدار کو اس سے کوئی آمدنی ہوتی ہے تو وہ بھی خود رکھے گا، خریدی ہوئی چیز واپس کرتے وقت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بیچنے والے کو واپس نہیں کرے گا۔
(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہی روایت سنن ابی داؤد (3510)
میں بھی ہے، وہاں ہمارے محقق نے اس کی بابت یوں لکھا ہے کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے البتہ سابقہ روایت (3509)
اس سے کفایت کرتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی سنداً ضعیف ہونے باوجود معناً صحیح اور قابل عمل ہے، علاوہ ازیں مذکورہ روایت کو دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
-دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجه للألباني، رقم: 1836، والموسوعة الحديثة مسندالإمام أحمد: 40/ 272، 273)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2243 سے ماخوذ ہے۔