سنن نسائي
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
بَابُ : اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ فِي الْكَسْبِ باب: کمائی میں شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4460
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ الرِّبَا ، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے اور جس نے اسے نہیں کھایا ، اس پر بھی اس کا غبار پڑ کر رہے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3331 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شبہات سے بچنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎۔“ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3331]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎۔“ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3331]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت تک ایک گروہ ایسا ضرور باقی رہے گا جو حق پر غالب اور کاربند رہے گا مذکورہ بالا روایت میں عمومی احوال معیشت کی طرف اشارہ ہے۔
جس کا اب عملی مشاہدہ ہو رہا ہے۔
کہ پوری معیشت کو سود کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے۔
اور اس سے بچنا انتہائی عظیمت کا کام ہے۔
اور پوری طرح بچنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت تک ایک گروہ ایسا ضرور باقی رہے گا جو حق پر غالب اور کاربند رہے گا مذکورہ بالا روایت میں عمومی احوال معیشت کی طرف اشارہ ہے۔
جس کا اب عملی مشاہدہ ہو رہا ہے۔
کہ پوری معیشت کو سود کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے۔
اور اس سے بچنا انتہائی عظیمت کا کام ہے۔
اور پوری طرح بچنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3331 سے ماخوذ ہے۔