حدیث نمبر: 4452
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ مَرَّةً : عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنْ رُكُوبِهَا ، وَعَنْ أَكْلِ لَحْمِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے اور «جلالہ» پر سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔

وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمرو یعنی اگر راوی نے «محمد» کے بعد «عن أبیہ» کہا تھا تو «عبد الله بن عمرو» کی روایت ہو گی، اور اگر «عن جدہ» کہا تھا تو «عمرو بن العاص» کی روایت ہو گی، ابوداؤد میں بغیر شک کے «عمرو بن شعیب عن أبیہ، عن جدہ» ہے، یعنی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، مزی نے اس کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہی کی مسند ذکر کیا ہے۔ «جلالہ» : وہ جانور جو صرف نجاست یا اکثر نجاست کھاتا ہو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأطعمة 34 (3811)، (تحفة الأشراف: 8726)، مسند احمد (2/219) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3811 | مسند الحميدي: 784

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´«جلّالہ» (گندگی اور نجاست کھانے والے جانور) کا گوشت کھانے کی ممانعت۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے اور «جلالہ» پر سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4452]
اردو حاشہ: (1) جس جانور کی اکثر خوراک گندگی ہو، اس جانور (حیوان پا پرندے) کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔
(2) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ جلالۃ، یعنی گندگی کھانے پر گزارا کرنے والے جانور پر سواری کرنا ممنوع ہے۔
(3) گھریلو، یعنی پالتو گدھے کا گوشت تو مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ گندگی کھائے یا نہ، البتہ اس پر سواری کرنا جائز ہے کیونکہ اسے پیدا ہی سواری اور باربرداری کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا پسینہ وغیرہ پاک ہے لیکن گندگی کھانے والا جانور، خواہ کوئی بھی ہو، اگر گندگی اس قدر کھائے کہ اس کے اثرات اس کے گوشت میں محسوس ہوں، مثلاً: گوشت سے گندگی کی بدبو آئے یا ذائقہ خراب ہو یا رنگ بدل جائے تو اسے نہ صرف کھانا حرام ہے بلکہ ایسے جانور پر سواری ببھی منع ہے کیونکہ اس کے پسینے میں بھی گندگی کے اثرات ہوں گے، لہٰذا پسینہ پلید ہو گا۔ سوار کے کپڑے لازماً جانور کے پسینے سے آلودہ ہو جائیں گے۔ وہ بھی پلید ہو جائیں گے۔ کپڑے جسم کو لگتے ہیں، لہٰذا سوار کا جسم بھی پلید ہو ائے گا، اس لیے سواری بھی منع ہے۔ پسینہ تو گوشت ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ گوشت پلید تو پسینہ بھی پلید۔ البتہ معمولی گندگی کھانے والے جانور کا یہ حکم نہیں کیونکہ جانوروں کو خالص اور پاک خوراک کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ معمولی گندگی کے اثرات گوشت وغیرہ تک نہیں پہنچتے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4452 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 784 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
784- سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید کوہان والے کچھ اونٹ پیش کئے گئے تھے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمیں سواری کے لئے دیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اور اونٹ پیش کئے گئے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری سواری کے لئے دیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:784]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قسم اٹھا لینے سے اس کام کا کرنا ضروری نہیں ہو جاتا بلکہ جس کام کی قسم اٹھائی ہے اگر اس سے بہتر دوسرا کام ہوا تو بہتر کو کر لینا چاہیے اور قسم کا کفارہ ادا کر دینا چاہیے۔
﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (المائدة 5: 89)
اللہ تمھاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قسموں میں تمھاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمھاری ان (سنجیدہ) قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنھیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کرلو، (اگر تم ایسی قسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلا تے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم کھا لو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تا کہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤ۔
اس آیت میں قسم کے کفارے کا ذکر ہے اور کفارے میں چار چیزوں میں سے کوئی ایک پرعمل کرلیا جائے کفارہ ادا ہو جا تا ہے۔
① دس مسکینوں فقیروں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا۔
② دس مسکینوں فقیروں کو کپڑے دینا۔
③ غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا۔
④ تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 784 سے ماخوذ ہے۔