حدیث نمبر: 4451
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنْ خَلَفٍ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّرِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا ، عَجَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَقُولُ : يَا رَبِّ , إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا ، وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی : اے میرے رب ! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4451
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، صالح بن دينار مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4843)، مسند احمد (4/389) (ضعیف) (اس کے راوی صالح بن دینار لین الحدیث ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بے مقصد کسی گوریا کو مارنے والے کا بیان۔`
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی: اے میرے رب! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4451]
اردو حاشہ: بے فائدہ نہ کھانے کے لیے، نہ کسی دوائی میں ڈالنے کے لیے بلکہ شغل اور کھیل کے طور پر۔ یہ فریاد خالی فریاد نہیں ہو گی بلکہ اس پر داد رسی بھی ہو گی۔ اور اس شخص کو سزا بھی ملے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4451 سے ماخوذ ہے۔