سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهَا باب: بے مقصد کسی گوریا کو مارنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4450
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا ، سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا حَقُّهَا ؟ ، قَالَ : " حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا ، وَلَا تَقْطَعْ رَأْسَهَا ، فَيُرْمَى بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی گوریا ، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´بے مقصد کسی گوریا کو مارنے والے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی گوریا، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4450]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی گوریا، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4450]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 4354 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4450 سے ماخوذ ہے۔