حدیث نمبر: 4449
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1956 | سنن ترمذي: 1475 | سنن ابن ماجه: 3187 | سنن نسائي: 4448

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´«مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4449]
اردو حاشہ: جاندار چیز کو نشانہ بنانا ظلم ہے اور ظلم حرام ہے۔ انسان پر ہو یا حیوان پر۔ حتیٰ کہ بے جان چیزوں پر بھی۔ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 4331)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4449 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1475 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1475]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(مؤلف اورابن ماجہ کی سند میں سماک وعکرمہ کی وجہ سے کلام ہے، دیگرکی سند یں صحیح ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1475 سے ماخوذ ہے۔