حدیث نمبر: 4447
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو جانوروں کا مثلہ کرے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں ناک اور کان وغیرہ اعضاء کو کاٹ کر اس کی شکل و صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں، مثلہ حرام ہے خواہ انسان کا ہو یا جانور کا، اور کسی حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کی بوٹیاں بنانے کی کے مقصد سے اس کے ٹکڑے کرنا مثلہ نہیں ہے، مثلہ میں فقط شبیہ بگاڑ کر پھینک دینا مقصود ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5514 | صحيح مسلم: 1958 | معجم صغير للطبراني: 467

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5514 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5514. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ یحییٰ بن سعید کے پاس گئے جبکہ یحییٰ کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا مرغی کو باندھ کر اپنے تیر سے نشانہ بازی کر رہا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ مرغی کے پاس گئے اور اسے کھول دیا، پھر اپنے ساتھ مرغی اور لڑکا دوںوں کو لائے اور یحییٰ سے کہا: اپنے لڑکے منع کرو وہ اس جانور کو باندھ کر نہ مارے کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے آپ نے کسی بھی جانور وغیرہ کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5514]
حدیث حاشیہ:
(1)
اللہ تعالیٰ خود رحم کرنے والا ہے اور دوسروں کو رحم کرنے کا حکم دیتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو، چنانچہ ذبح کرنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصید والذبائح، حدیث: 5055 (1955) (2)
کسی بھی جانور کو باندھ کر مارنا اسے اذیت پہنچانا ہے جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5514 سے ماخوذ ہے۔