حدیث نمبر: 4445
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ ، فَكَرِهَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا ۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے ، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا : ” جانوروں کا مثلہ نہ کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 529) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´«مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا: جانوروں کا مثلہ نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4445]
اردو حاشہ: مثلہ سے مراد ہے کس کی شکل بگاڑنا یا زندہ سے کچھ گوشت الگ کرنا۔ ظاہر ہے کسی جاندار (حیوان یا پرندے) کو باندھ کر تیروں کے ساتھ نشانہ بنانے سے شکل بھی بگڑے گی کیونکہ تیر چہرے پر بھی لگ سکتے ہیں اور تیر لگنے سے گوشت بھی الگ ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4445 سے ماخوذ ہے۔