سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4443
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «مجثمة» حلال نہیں ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: «مجثمة» یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´«مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔`
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «مجثمة» حلال نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4443]
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «مجثمة» حلال نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4443]
اردو حاشہ: مجثمہ سے مراد وہ جانور ہے جسے باندھ کر دور سے تیروں وغیرہ کا نشانہ بنایا جائے اور وہ مر جائے۔ یہ حرام ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 4331)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4443 سے ماخوذ ہے۔