حدیث نمبر: 4432
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا , فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ` ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا ، انہوں نے کہا : میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کر لوں ، چنانچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے ( وہ بدری صحابی تھے ) اور ان سے اس بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی ۔

وضاحت:
۱؎: "اخیافی بھائی" وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازی 12 (3997)، الأضاحی 16(5568)، (تحفة الأشراف: 11072)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (8) (صحیح)»