سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ وَعَنْ إِمْسَاكِه باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4429
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ ، وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ` میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا ، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے ، ( یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔`
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4429]
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے)۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4429]
اردو حاشہ: (1) یہ حدیث مبارکہ خطبۂ عید کی مشروعیت پر واضح دلیل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خطبۂ عید پر مداومت اور ہمیشگی فرمائی ہے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خطبۂ عید اور خطبۂ جمعۃ المبارک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ خطبۂ عید، نماز عید کے بعد ہوتا ہے جبکہ خطبۂ جمعہ، نماز جمعہ سے پہلے ہوتا ہے، البتہ عید اور جمعہ دونوں کے خطبے کھڑے ہو کر دینا مشروع ہے الا کہ کوئی معقول شرعی عذر ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے عید اور جمعۃ المبارک کا خطبہ ہمیشہ کھڑے ہو کر دیا ہے۔
(3) نماز عیدین کے لیے اذان ہے نہ اقامت۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خطبۂ عید اور خطبۂ جمعۃ المبارک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ خطبۂ عید، نماز عید کے بعد ہوتا ہے جبکہ خطبۂ جمعہ، نماز جمعہ سے پہلے ہوتا ہے، البتہ عید اور جمعہ دونوں کے خطبے کھڑے ہو کر دینا مشروع ہے الا کہ کوئی معقول شرعی عذر ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے عید اور جمعۃ المبارک کا خطبہ ہمیشہ کھڑے ہو کر دیا ہے۔
(3) نماز عیدین کے لیے اذان ہے نہ اقامت۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4429 سے ماخوذ ہے۔