سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ وَعَنْ إِمْسَاكِه باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۴۳۴)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4428]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4428]
اردو حاشہ: (1) فقر و فاقہ کے مارے ہوئے لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے وقتی طور پر رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے سے منع فرما دیا تھا، بعد ازاں جب حالات بہتر ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے یہ پابندی ختم کر دی۔ آگے آنے والی احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مذکورہ پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ شارح علیہ السلام نے انسان کی مصلحت کا خوب خوب لحاظ رکھا ہے، لہٰذا اب بھی اگر حالات کی تنگی کی وجہ سے ایسی مشکلات کا سامنا ہو تو مذکورہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔
(2) اگلے باب میں امام نسائی رحمہ اللہ جو احادیث لائے ہیں ان میں تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت ہے، اس لیے اب تین دن سے زائد گوشت کھایا بھی جا سکتا ہے، اور ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے، البتہ فقراء کو دینا لازم ہے۔
(2) اگلے باب میں امام نسائی رحمہ اللہ جو احادیث لائے ہیں ان میں تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت ہے، اس لیے اب تین دن سے زائد گوشت کھایا بھی جا سکتا ہے، اور ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے، البتہ فقراء کو دینا لازم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4428 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1970 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی ایک بھی اپنی قربانی کے گوشت تین دن سے زائد نہ کھائے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5100]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ تین دن قربانی کے بعد ہیں، جیسا کہ فوق ثلاث ليال سے ثابت ہے، اس لیے اس حدیث سے استدلال یہ کرنا کہ تیرہ (13)
کو قربانی کرنا صحیح نہیں ہے، درست نہیں ہے۔
کو قربانی کرنا صحیح نہیں ہے، درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5100 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1509 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے " ۱؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1509]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے " ۱؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1509]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ فرمان خاص وقت کے لیے تھا جو اگلی حدیث سے منسوخ ہوگیا۔
وضاحت:
1؎:
یہ فرمان خاص وقت کے لیے تھا جو اگلی حدیث سے منسوخ ہوگیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1509 سے ماخوذ ہے۔