سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الْمُنْفَلِتَةِ الَّتِي لاَ يُقْدَرُ عَلَى أَخْذِهَا باب: بدک کر بھاگ جانے والے جانور جس کو پکڑنا ممکن نہ ہو کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَافِعٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا ، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ؟ ، قَالَ : " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ ، وَالظُّفُرَ " ، قَالَ : فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ ، أَوْ قَالَ : الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا , فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا " .
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، آپ نے فرمایا : ” دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے ( جانور کا ) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا ، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا ، ایک شخص نے اسے تیر مارا ، جس سے وہ رک گیا ، آپ نے فرمایا : ” ان جانوروں میں ، یا یوں فرمایا : ان اونٹوں میں ، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی ( پکڑنے میں ) تھکا دے ، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ” دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ” ان جانوروں میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4414]
امام نووی ؒنے کہا کہ ناخن خواہ بدن میں لگا ہوا ہو یا جدا کیا ہوا ہو، پاک ہو یا نجس کسی حال میں اس سے ذبح جائز نہیں۔
ترجمہ باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر کیا۔
ہانڈیوں کو ا س لیے اوندھا کر دیا گیا کہ ان میں جو گوشت پکا یا جارہا تھا وہ ناجائز تھا۔
جسے کھانا مسلمانوں کے لیے حلال نہ تھا۔
لہٰذآپ ﷺ نے ان کا گوشت ضائع کرا دیا۔
دیوبندی حنفی ترجمہ بخاری میں یہاں لکھا گیا ہے کہ ”ہانڈیوں کے الٹ دینے کا مطلب یہ ہے کہ یعنی تقسیم کرنے کے لیے ان سے گوشت نکال لیا گیا۔
‘‘ (دیکھو تفہیم البخاری دیوبندی ص142پ9)
یہ مفہوم کتنا غلط ہے۔
اس کا اندازہ حاشیہ صحیح بخاری شریف مطبوعہ کراچی جلد اول ص 338 کی عبارت ذیل سے لگایا جاسکتا ہے۔
محشی صاحب جو غالباً حنفی ہی ہیں فرماتے ہیں فأکفئت أي أقلبت و رمیت وأریق ما فیها و هو من الإکفاء قیل إنما أمر بالإکفاء لأنهم ذبحوا الغنم قبل أن یقسم فلم یطب له بذلك۔
یعنی ان ہانڈیوں کو الٹا کر دیا گیا، گرا دیا گیا اور جو ان میں تھا وہ سب بہاد یا گیا۔
حدیث کا لفظ اکفئت مصدر اکفاء سے ہے۔
کہا گیا ہے کہ آپ نے ان کے گرانے کا حکم ا س لیے صادر فرمایا کہ انہوں نے بکریوں کو مال غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ہی ذبح کر ڈالا تھا۔
آپ ﷺ کو ان کا یہ فعل پسند نہیں آیا۔
اس تشریح سے صاف ظاہر ہے کہ دیوبندی حنفی کا مذکورہ مفہوم بالکل غلط ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
(1)
امام بخاری ؒ اندازے سے تقسیم کا جواز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تقسیم کے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا ہے اور بکریوں کے قد ایک جیسے نہیں ہوتے اور طاقت کے اعتبار سے بھی ان میں فرق ہوتا ہے۔
اس طرح اونٹوں کا معاملہ ہے، لیکن تقسیم کرتے وقت اس قسم کے فرق کا اعتبار نہیں کیا گیا۔
معلوم ہوا کہ جانوروں کی قیمت مقرر کرنے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ جب ایسا کیا جائے گا تو اس اندازے سے کیا جائے گا کہ اس حیثیت کا اونٹ ہے اور اس حیثیت کی بکریاں ہیں۔
اونٹ اور بکریوں کی مختلف اقسام ہیں۔
دونوں کی حیثیت دیکھ کر قیمت مقرر کی جائے گی۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ قیمت کا تعین کر کے جانوروں کا تبادلہ ہو گا۔
اس سے بہت دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ بکریوں کی تقسیم تعداد کے اعتبار سے ہے، اس میں قیمت کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔
(2)
واضح رہے کہ اختیاری حالات میں تو جانور کو گلے ہی سے ذبح کیا جائے گا، البتہ اضطراری حالات میں کسی بھی مقام سے ذبح کیا جا سکتا ہے، نیز ذبح کرتے وقت بسم الله الله أكبر کہنا بھی ضروری ہے۔
اگر کوئی بسم الله بھول جائے یا اسے شک ہو کہ تکبیر پڑھی ہے یا نہیں تو کھاتے وقت بسم الله پڑھ لی جائے۔
(1)
اس حدیث میں دو واقعات ہیں: ایک یہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تقسیم غنیمت سے پہلے گوشت کی دیگیں چڑھا دیں، دوسرا یہ کہ اونٹ بھاگ نکلا تو اسے کسی نے تیر مار کر روک لیا۔
ان دونوں واقعات سے امام بخاری رحمہ اللہ نے الگ الگ مسائل کا استنباط کیا ہے لیکن علامہ اسماعیلی نے امام بخاری رحمہ اللہ پر اعتراض کیا ہے کہ دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ذبح کرنے میں دونوں واقعات میں حد سے تجاوز کیا گیا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ پہلی صورت میں لوگوں نے تقسیم سے پہلے جانور ذبح کر دیے تاکہ وہ گوشت کو اپنے لیے خاص کر لیں تو انہیں اس گوشت سے محروم کر دینے کی سزا دی گئی اور جس صورت میں آدمی نے اونٹ کو تیر مار کر روکا، اس میں مالک کے مال کو محفوظ رکھنے کا جذبہ کار فرما تھا۔
شارح صحیح بخاری ابن منیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ اگر غیر مالک کا ذبح کرنا زیادتی کے طور پر ہے تو اس کا ذبح کرنا فاسد ہے اور اگر اس کا ذبح کرنا اصلاح کے جذبے سے ہے تو فاسد نہیں ہے۔
(فتح الباري: 832/9)
ایک حدیث میں ہے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے ان کی بکری اجازت کے بغیر ذبح کر دی جو مرنے کے قریب پہنچ چکی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔
(صحیح البخاري، الذبائح و الصید، حدیث: 5501)
اس حدیث سے بھی امام بخاری رحمہ اللہ کا قائم کیا ہوا عنوان ثابت ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، لوگوں کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ان کے پاس گھوڑے بھی نہ تھے، ایک آدمی نے اس کو تیر مارا سو اللہ نے اس کو روک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان چوپایوں میں جنگلی جانوروں کی طرح بھگوڑے بھی ہوتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے کوئی ایسا کرے (یعنی بدک جائے) تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو “ ۱؎۔ اس سند سے بھی رافع رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں یہ نہیں ذکر ہے کہ عبایہ نے اپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1492]
وضاحت:
1؎:
یعنی اس پر ’’بسم اللہ‘‘ پڑھ کر تیر چلاؤ اور تیر لگ جانے پر اسے کھاؤ، کیوں کہ بھاگنے اور بے قابو ہونے کی صورت میں اس کے جسم کا ہر حصہ محل ذبح ہے، گویا یہ اس شکار کی طرح ہے جو بے قابو ہوکر بھاگتا ہے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ” جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے “، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4415]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذی الحلیفہ میں تھے تو لوگوں کو کچھ اونٹ ملے اور کچھ بکریاں (بطور مال غنیمت) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے پیچھے تھے، تو آگے کے لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم غنیمت سے پہلے) انہیں ذبح کیا اور ہانڈیاں چڑھا دیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے، آپ نے حکم دیا تو ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4302]
(2) مشترکہ مال میں‘ اجازت کے بغیر انفرادی اور شخصی تصرف ناجائز ہے اگرچہ وہ مال تھوڑا ہی ہو، خواہ ضرورت کا تقاضا یہی کیوں نہ ہو۔
(3) یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کمال درجے کی اطاعت رسول اللہ ﷺ کی واضح دلیل ہے کہ سخت بھو کے ہونے کے باوجود انھوں نے ابلتی ہانڈیاں الٹا دیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے حکم سے سر موانحراف نہیں کیا۔
(4) شرعی مصلحت کا تقاضا ہو تو حاکم وقت رعایا کو سزا دے سکتا ہے، خواہ اس صورت میں مال ضائع ہی کیوں نہ ہوتا ہو لیکن شرط یہ ہے کہ شرعی مصلحت ہی غالب ہو۔ محض اپنی اَنا کی تسکین کے لیے سزا دینا مقصود نہ ہو۔
(5) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مخلوط اور ملے جلے غنیمت میں ہر چیز کی الگ الگ تقسیم ضروری نہیں بلکہ تعدیل و تقویم (مختلف اشیاء میں کمی بیشی کر کے انھیں قیمتاََ ایک دوسرے کے برابر قرار دینا) بھی جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے دس بکریوں کو ایک ایک اونٹ کے برابر قرار دیا تھا۔
(6) اصول یہ ہے کہ گھریلو جانوروں کو قابو کر کے حلق سے ذبح کیا جائے۔ چھوٹے جانوروں کو لٹا کر ذبح کیا جائے۔ اور اونٹ کو کھڑا کر کے اس کا بایاں گھٹنا باندھ کر اس کے حلق میں چھری کی نوک یا نیزہ وغیرہ مار کر اسے نحر کیا جائے۔ گھریلو جانوروں کو شکار کی طرح تیر مار کر ذبح نہیں کرنا چاہیے، البتہ جنگلی جانور چونکہ انسانوں کے قابو میں آتے، لہٰذا ان کے لیے یہی طریقہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تیر پھینکا جائے، جہاں بھی جا لگے۔ جب وہ خون نکلنے سے کمزور ہو جائے تو اس کو پکڑلے اور ذبح کر لے لیکن اگر وہ اسی تیر سے بے جان ہو جائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔
(7) ”تہامہ کا ذوالحلیفہ“ اشارہ ہے کہ یہاں وہ ذوالحلیفہ مراد نہیں جو مدینہ کا میقات ہے اور جہاں احرام باندھا جاتا ہےبلکہ یہ اور ذوالحلیفہ ہے۔
(8) ”ذبح کیا“ نبی ﷺ کی اجازت کے بغیر، حالانکہ مال غنیمت امیر کی معرفت تقسیم ہونا چاہیے۔
(9) ”دس بکریاں“ معلوم ہوا دس بکریاں ایک اونٹ کے برابر ہیں، لہٰذا اونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
(10) ”خال خال گھوڑے تھے“ یعنی اونٹ کا تعاقب کرنے اور اسے پکڑنے لے لیے گھوڑے مہیا نہ ہو سکے۔ اور گھوڑوں کے بغیر اسے پکڑا نہیں جا سکتا تھا۔
(11) ”بھاگنے لگتے ہیں“ یعنی وحشت محسوس کرتے ہیں۔ عربی میں لفظ أوابد استعمال ہوا ہے جو آبدة کی جمع ہے۔ اس کے معنیٰ غیر مانوس، وحشی، بدکنے اور بھاگنے والے جانور کے ہیں۔ چونکہ جنگلی جانور انسان سے غیر مانوس ہوتے ہیں اور دیکھتے ہی بھاگتے ہیں، اس لیے انھیں أوابد کہا جاتا ہے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں “، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3183]
فوائد و مسائل:
(1)
بھاگنے سے مراد مالک سے چھوٹ کر بھاگ جانا ہے کہ اس پر قابو پانا مشکل ہو۔
(2)
بھاگے ہوئے بے قابو جانور کو دور سے تیر یا نیزہ وغیرہ (تکبیر کہہ کر)
مارا جائے تو اس کا حکم شکار كا ہوجا تا ہے، یعنی اگر اس تک لوگوں کے پہنچنے سے پہلے اس کی جان نکل جائے تو وہ ذبیحہ کے حکم میں ہے۔
اور اگر لوگوں کے پہنچنے تک زندہ ہو تو باقاعدہ تکبیر پڑھ کر ذبح یا نحر کیا جائے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جس مرضی چیز سے ماکول اللحم جانور کواللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حلال ہے سوائے دانت اور ناخن کے۔ دانت سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ ایک ہڈی ہے اور اس سے جانور پوری طرح ذبح نہیں ہوتا، اسی طرح ناخن سے ذبح کرنے میں بھی جانور کو تکلیف ہوتی ہے اور اس سے جانور پوری طرح ذبح نہیں ہوتا۔ [صحيح بخاري 4598] میں اس حدیث سے پہلے مفصل واقعہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ، اس حدیث سے قبل لکھتے ہیں: ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا اور جس نے بسم اللہ کو عمداً چھوڑ دیا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر کوئی ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تو کوئی حرج نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اور اس جانور کو نہ کھاؤ جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، بلاشبہ یہ نا فرمانی ہے۔ “ (الأنعام: 121) بھولنے والے کو فاسق نہیں کہاجا سکتا۔
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اور شیاطین تو اپنے دوستوں کے دلوں میں (شکوک و شبہات) القا کرتے رہتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑتے رہیں اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم بھی مشرک ہی ہوئے۔ (الأنعام: 121) [صحيح البخاري قبل ح: 5498]