سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : إِبَاحَةِ الذَّبْحِ بِالْعُودِ باب: لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4407
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ ، فَعُرِضَ لَهَا , فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ : وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ ، أَوْ حَدِيدٍ ؟ ، قَالَ : لَا ، بَلْ خَشَبٌ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی ، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی ، اسے عارضہ لاحق ہو گیا ، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا ۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا : لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی ؟ کہا : لوہا نہیں ، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے ، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہو گیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا: لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی؟ کہا: لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہو گیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا: لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی؟ کہا: لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
اردو حاشہ: ”حکم دیا“ یعنی اجازت دی یا حقیقتاََ حکم مراد ہے کیونکہ شریعت کی رو سے حلال چیز کو ضائع کرنا جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4407 سے ماخوذ ہے۔