حدیث نمبر: 4406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ ، فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ ، وَبِالْعَصَا ؟ ، قَالَ : " أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اپنا کتا چھوڑتا ، اور شکار کو پا لیتا ہوں ، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4406
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4309 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2824 | سنن ابن ماجه: 3177 | سنن نسائي: 4309

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2824 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان۔`
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے (اس شکار کو) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر (اللہ کا نام لے کر) جس چیز سے چاہے خون بہا دو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2824]
فوائد ومسائل:
سابقہ احادیث کی روشنی میں دانت اور ناخن سے ذبح نہیں کیا جاسکتا، اس کے علاوہ کسی بھی تیز دھار چیز سے ذبح کیا جاسکتا ہے۔
بشرط یہ ہے کہ اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اس کا کھانا حلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2824 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3177 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کس چیز سے ذبح کرنا جائز ہے؟`
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شکار کرتے ہیں اور ہمیں ذبح کرنے کے لیے تیز پتھر اور دھار دار لکڑی کے سوا کچھ نہیں ملتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، اور اس پر اللہ کا نام لے لو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3177]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ڈنڈے کی کھچی سے مراد لکڑی کا باریک دھاردار کونے والا ٹکڑا ہے جسے چھری کے ساتھ استعمال کرکے ذبح کرنا ممکن ہو۔
تاہم رگوں کا کٹ کر خون بہنا شرط ہے تاکہ وہ ذبح ہو، کسی چیز کے دباؤ سے گلا گھونٹ کر مارنے میں شمار نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3177 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4309 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب شکار سے بدبو آنے لگے تو کیا کرے؟`
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، وہ شکار پکڑ لیتا ہے، لیکن مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جس سے ذبح کروں تو میں پتھر (چاقو نما سفید پتھر) سے یا (دھاردار) لکڑی سے اسے ذبح کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام لو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4309]
اردو حاشہ: خون بہا جانور کے ذبح ہونے کے لیے خون کا مکمل بہہ جانا ضروری ہے، چاہے کسی چیز سے بہایا جائے، یعنی لوہا، پتھر، لکڑی وغیرہ۔ مگر اس کا تیز دھار ہونا لازمی ہے تا کہ جانور کو ناجائز تکلیف نہ ہو، نیز جانور کو چوٹ نہ لگے، دباؤ نہ پڑے ورنہ جانور چوٹ یا دباؤ سے بھی ختم ہو سکتا ہے یا مکمل خون بہنے سے رک سکتا ہے۔ اس طرح جانور حرام ہو جائے گا۔ اس روایت کا باب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ کتاب الصید سے تعلق ہے۔ سنن نسائی میں ایسے بہت ہے۔ کیوں؟ ممکن ہے کسی ناسخ کی غلطی ہو یا لفظ باب چھوٹ گیا ہو۔ کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4309 سے ماخوذ ہے۔