حدیث نمبر: 4404
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ : أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ , فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ , أَفَآكُلُ ؟ ، قَالَ : " كُلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا : اللہ کے رسول ! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کر دیا ، کیا میں انہیں کھاؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” کھاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4404
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4318 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2822 | سنن ابن ماجه: 3244 | سنن نسائي: 4318

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´دھاردار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔`
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ نے فرمایا: کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4404]
اردو حاشہ: ذبح کرنے کا مقصد خون بہانا ہے جس چیز کے ساتھ بھی بہا دیاجائے جائز ہے، بشر طیکہ وہ تیز دھار ہو اور یکبارگی ذبح کرے۔ گلے پر دباو نہ ڈالے بلکہ تیزی سے کاٹ دے تاکہ مذبوح کو کم سے کم تکلیف ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4404 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2822 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان۔`
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2822]
فوائد ومسائل:
خرگوش حلال جانور ہے۔
اور جب چھرى موجود نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2822 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3244 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´خرگوش کا بیان۔`
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو خرگوش لٹکائے ہوئے گزرے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ دونوں خرگوش ملے، اور مجھے کوئی لوہا نہیں ملا، جس سے میں انہیں ذبح کرتا، اس لیے میں نے ایک (تیز) پتھر سے انہیں ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3244]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خرگوش حلال جانور ہے۔

(2)
  جنگل میں موجود حلال جانور کا شکار جائز ہے۔

(3)
معمولی تحفہ بھی پیش کرنا اور قبول کرنا چاہیے۔

(4)
  ذبح کےلیے لوہے کی چیز ہونا ضروری نہیں۔

(5)
کسی عام سے مسئلے میں بھی شک ہو جائے تو پوچھ لینا چاہیے۔

(6)
عالم سے جب مسئلہ پوچھا جائے تو بتا دے خواہ کتنا مشہور مسئلہ ہو یہ نہ کہے تمہیں یہ بھی معلوم نہیں۔

(7)
مروہ ایک قسم کا سفید پتھر ہے جس کا ٹکڑا چاقو چھری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ابن اثیر  فرماتےہیں: حدیث میں اس سے مطلقاً پتھر مراد ہے (کسی بھی قسم کا ہو)
خاص سفید پتھر مراد نہیں۔ (النھایة مادۃ: مرا)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3244 سے ماخوذ ہے۔