سنن نسائي
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : الْخَرْقَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُخْرَقُ أُذُنُهَا باب: کٹے پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
حدیث نمبر: 4379
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ ، أَوْ مُدَابَرَةٍ ، أَوْ شَرْقَاءَ ، أَوْ خَرْقَاءَ ، أَوْ جَدْعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور ، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´کٹے پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4379]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4379]
اردو حاشہ: ”کوئی عضو کٹا ہوا ہو“ مثلاً ناک، کان یا ہونٹ وغیرہ۔ عربی میں اسے جدعاء کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4379 سے ماخوذ ہے۔