حدیث نمبر: 4372
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ يَوْمَ الْأَضْحَى بِالْمَدِينَةِ " , قَالَ : وَقَدْ كَانَ إِذَا لَمْ يَنْحَرْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن مدینے میں اونٹ نحر ( ذبح ) کیا ، اور جب آپ ( اونٹ ) نحر نہیں کرتے تو عید گاہ میں ذبح کرتے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الضحايا / حدیث: 4372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7719) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 982 | صحيح البخاري: 5552 | سنن نسائي: 4371 | سنن ابن ماجه: 3161

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´امام کا اپنی قربانی کا جانور عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن مدینے میں اونٹ نحر (ذبح) کیا، اور جب آپ (اونٹ) نحر نہیں کرتے تو عید گاہ میں ذبح کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4372]
اردو حاشہ: گویا اونٹ کو عید گاہ میں نہ لے جاتے بلکہ اسے شہر ہی میں ذبح کر دیتے۔ چھوٹا جانور ہوتا تو ساتھ لے جاتے کیونکہ بڑے جانور کو ذبح کرنے میں دیر بھی لگتی ہے اور معاون بھی زیادہ چاہئیں، اس لیے گھر ہی بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4372 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 982 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
982. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اونٹ یا کسی اور جانور کی قربانی عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:982]
حدیث حاشیہ: نحراونٹ کا ہوتا ہے باقی جانوروں کو لٹا کر ذبح کرتے ہیں۔
اونٹ کو کھڑے کھڑے اس کے سینہ میں خنجر ماردیتے ہیں اس کا نام نحر ہے۔
قربانی شعائر اسلام میں ہے۔
حسب موقع ومحل بلا شبہ عید گاہ میں بھی نحر اور قربانی مسنون ہے مگر بحالات موجودہ اپنے گھروں یا مقررہ مقامات پر یہ سنت ادا کرنی چاہیے، حالات کی مناسبت کے لیے اسلام میں گنجائش رکھی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 982 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 982 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
982. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اونٹ یا کسی اور جانور کی قربانی عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:982]
حدیث حاشیہ:
(1)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں: مسنون عمل یہی ہے کہ اونٹ یا گائے وغیرہ کو عیدگاہ میں ذبح کیا جائے اور جو کچھ لوگ اس کے خلاف کر رہے ہیں، یعنی جب عید گاہ سے واپس آ کر اپنے گھروں میں نحر و ذبح کرتے ہیں تو یہ کام غیر مسنون ہے اور ایسا سستی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
(2)
بلاشبہ عیدگاہ میں قربانی کرنا مسنون ہے مگر حالات و ظروف کے پیش نظر یہ سنت اپنے گھروں اور مقررہ مقامات پر بھی ادا کی جا سکتی ہے، اگرچہ بہتر ہے کہ عیدگاہ میں یہ کام کیا جائے۔
سلاطین اسلام بھی عیدگاہ ہی میں قربانی کیا کرتے تھے۔
اس میں بہت سے مصالح ہیں۔
ایک تو شعائر اسلام کا اظہار ہے، دوسرے اس میں فقراء کا نفع ہے کہ جب عیدگاہ میں قربانی ہو گی تو ضرورت کے پیش نظر کچھ گوشت گھر کے لیے جائے گا، باقی سب فقراء میں تقسیم ہو گا، نیز راستے میں محتاج لوگوں کو دیا جائے گا، تاہم گھروں میں قربانی کرنا منع نہیں کیونکہ عام طور پر آج کل سرکاری پارکوں میں نماز عید ادا کی جاتی ہے، وہاں قربانی کا جانور ذبح کر کے گندگی پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 982 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5552 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5552. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5552]
حدیث حاشیہ: حضرت نافع بن سرجس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ ہیں۔
حدیث کے بارے میں شہرت یافتہ بزرگوں میں سے ہیں۔
حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ میں جب نافع کے واسطہ سے حدیث سن لیتا ہوں تو کسی اور راوی سے بالکل بے فکر ہو جاتا ہوں۔
سنہ 117ھ میں وفات پائی۔
امام مالک کی کتاب مؤطا میں زیادہ تر ان ہی کی روایات ہیں۔
رحمه اللہ رحمة واسعة۔
نافع سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث مراد ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5552 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5552. سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5552]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام مالک رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ امام کو چاہیے کہ وہ نمایاں طور پر عیدگاہ میں اپنی قربانی ذبح کرے تاکہ دوسرے لوگ اس کی اقتدا کریں۔
بعض حضرات نے اس حد تک مبالغہ کیا ہے کہ جو امام قربان گاہ میں ذبح نہیں کرتا وہ امامت یا اقتدا کے قابل نہیں ہے۔
(2)
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ نے دو طرح سے اس حدیث کو بیان کیا ہے: ایک موقوف اور دوسری مرفوع۔
مرفوع حدیث پہلے بیان کردہ موقوف حدیث کی دلیل ہے۔
(3)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ متبع سنت کی حیثیت سے اپنی قربانی وہاں ذبح کرتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی ذبح کیا کرتے تھے۔
بہرحال مستحب یہی ہے کہ امام بالخصوص عیدگاہ میں قربانی کرے تاکہ دوسرے لوگوں کو ترغیب ہو۔
(4)
عصر حاضر میں قربانی کے لیے مخصوص جگہ پر قربانی کرنا ہی بہتر ہے تاکہ ماحول صاف رہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4371 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´امام کا اپنی قربانی کا جانور عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ہی (قربانی کا جانور) ذبح یا نحر کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4371]
اردو حاشہ: (1) مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں شوق پیدا ہو۔ آپ کو قربانی ذبح کرتے دیکھنے کے بعد کوئی شخص سستی نہیں کر سکتا تھا بشرطیکہ وہ طاقت رکھتا ہو۔ اب بھی امام کے لیے یہ طریقہ مستحب ہے، ضروری نہیں۔ امام مالک نے اسے ضروری خیال کیا ہے مگر وجوب کی کوئی دلیل نہیں۔
(2) ذبح یا نحر گائے، بکری اور دنبہ، چھترا وغیرہ کو ذبح کیا جاتا ہے جبکہ اونٹ کو نحر۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4371 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3161 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3161]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مصلي سے مراد وہ میدان ہے جہاں عیدین اور استسقاء وغیرہ کی نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔

(2)
عید گاہ میں ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ وہاں امیر غریب سب جمع ہوتے ہیں لہذا تقسیم کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔
تاہم عیدگاہ میں ذبح کرنا ضروری نہیں گھر میں بھی ذبح کیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3161 سے ماخوذ ہے۔