حدیث نمبر: 4368
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلَا أَظْفَارِهِ " . فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ ، فَقَالَ : أَلَا يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ ، وَالطِّيبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور ( ذی الحجہ کے ابتدائی ) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے ، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا : وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان کو اس بابت مرفوع حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے بطور طنز ایسا کہا، ویسے اس کی سند ضعیف ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´باب:`
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4368]
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4368]
اردو حاشہ: حضرت عکرمہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر حجامت نہیں بنوانی تو پھر عورت اور خوشبو کا استعمال بھی منع ہونا چاہیے کیونکہ محرم سے مشابہت تو تب ہی مکمل ہوگی۔ شاید انھوں نے اسے حضرت سعید بن مسیب کا اپنا قول سمجھا ہوگا۔ اور ان کو مرفوع روایت نہیں پہنچی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر تو اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔ شریعت نے جتنی پابندی مناسب سمجھی، لگا دی، جیسے وضو اور غسل کا فرق ہے۔ جنبی کے لیے غسل مشروع فرما دیا اور محدث (بے وضو) کے لیے وضو۔ اسی طرح محرم کے لیے زیادہ پابندیاں لگا دیں اور صرف قربانی کرنے والے کے لیے کم۔ یہ کون سی قابل اعتراض بات ہے؟
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4368 سے ماخوذ ہے۔