حدیث نمبر: 4337
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ ، وَالْبِغَالِ ، وَالْحَمِيرِ ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے ، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 4337
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3790) وانظر الحديث الآتي (4336) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4336 | سنن ابي داود: 3790 | سنن ابن ماجه: 3198

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔`
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4337]
اردو حاشہ: یہ روایت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ان کے نزدیک گھوڑا جہاد میں استعمال ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اس لیے اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا مگر اس حدیث میں گھوڑے کو خچر، گدھے اور درندوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ گویا یہ پلید ہے۔ دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔ حدیث کی حیثیت پر سابقہ حدیث میں بھی بحث ہو چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4337 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4336 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔`
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4336]
اردو حاشہ: علامہ سندھی فرماتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے سنن کبریٰ میں فرمایا ہے: اس سے پہلے آنے والی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تو یہ منسوخ ہے کیونکہ جواز کی روایت میں اجازت دینے کے الفاظ اس کے منسوخ ہونے کی تائید کرتے ہیں۔ دیکھیے: (التعلیقات السلفیة على سنن النسائي: 4/ 603) یہ حدیث کسی بھی لحاظ سے جواز کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4336 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3790 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان۔`
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3790]
فوائد ومسائل:
توضیح: گھوڑے کا گوشت حلال اور طیب ہے۔
ہمارے ہاں اس کا رواج نہ ہونا الگ بات ہے۔
دیکھیے۔
(صحیح البخاري، الذبائع والصید، باب لحوم الخیل، حدیث:5519۔
و باب النحر  و ذبح حدیث: 5511۔
5510۔
و صحیح مسلم، الصید و الذبائح، باب إباحة أکل لحم الخیل، حدیث: 1942۔
1941) اور یہ آخری روایت (خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ضعیف ہے۔
اسے امام احمد بخاری۔
موسیٰ بن ہارون دراقطنی خطابی ابن عبد البر اور عبد الحق وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
علامہ البانی نے بھی اسے ضعیف سنن ابی دائود میں درج کیا ہے۔
بعض اہل علم سورہ نحل کی آیت مبارکہ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً (قرآن ۚ) (النحل۔
8) اللہ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا۔
کہ تم ان پرسواری کرو۔
اور یہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں۔
سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ یہ جانور کھانے کےلئے نہیں ہیں۔
(لہذا حرام ہیں۔
) ان حضرات کا استدلال صحیح نہیں۔
کیونکہ آیت کریمہ کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ یہ جانورمحض سواری اور زینت ہی کےلئے ہیں۔
دیگر فوائد حاصل کرنا ناجائز ہیں۔
چونکہ مذکورہ فوائد اہم تر تھے، اس لئے قرآن کریم نے ان کا ذکرفرمایا ہے۔
جیسے کہ سورہ مائدہ میں ہے (قرآن) (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ) (المائدة:3) تم پرمردار خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔
اس میں خنزیر کے صرف گوشت کا ذکر ہوا ہے۔
کیونکہ اہم شے یہی ہے۔
حالانکہ دیگر اشیاء ہڈی اور دوسرے اجزاء کا بھی یہی حکم ہے اور ان کے حرام ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔
اس مذکورہ سیاق میں گھوڑے پر بوجھ لادنے کا ذکر بھی نہیں ہے۔
تو کیا گھوڑے پر بوجھ لادنا جائز سمجھ لیا جائے؟ یہ بات عقل ونقل کے سراسر خلاف ہوگی۔
اس طرح سے اس کے حرام ہونے کا استدلال بھی قطعا ً درست نہیں۔
شروع آیات میں ہے۔
(وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ) (النحل:5) اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں۔
اور بھی بہت سے منافع ہیں۔
اور کئی تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔
تو یہاں اہم فوائد کا ذکر کردیا گیا ہے۔
اور باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(معالم السنن وعون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3790 سے ماخوذ ہے۔