سنن نسائي
كتاب الصيد والذبائح— کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ أَكْلِ السِّبَاعِ باب: درندہ کھانے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4331
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ النُّهْبَى ، وَلَا يَحِلُّ مِنَ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ ، وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوٹا ہوا مال حلال نہیں ، دانت ( سے پھاڑنے ) والا درندہ حلال نہیں ، اور «مجثمہ» حلال نہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مجثمہ ہر وہ جانور جسے باندھ کر اس پر تیر وغیرہ چلایا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´درندہ کھانے کی حرمت کا بیان۔`
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوٹا ہوا مال حلال نہیں، دانت (سے پھاڑنے) والا درندہ حلال نہیں، اور «مجثمہ» حلال نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4331]
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوٹا ہوا مال حلال نہیں، دانت (سے پھاڑنے) والا درندہ حلال نہیں، اور «مجثمہ» حلال نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4331]
اردو حاشہ: ”باندھ کر نشانوں سے مارا ہوا جانور“ اس سے مراد وہ جانور ہے جس کو پکڑ کر اس طرح باندھ دیا جائے کہ وہ بھاگ نہ سکے بلکہ حرکت بھی نہ کر سکے اور پھر تیروں وغیرہ کے ساتھ نشانے باندھ باندھ کر اسے تڑپا تڑپا کر مارا جائے۔ یہ طریقہ ظالمانہ ہونے کے ساتھ ساتھ اور شکار کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اصول یہ ہے کہ جو جانور پکڑا ہوا ہے، خواہ وہ گھریلو ہو یا جنگلی، اسے لٹا کر ذبح کیا جائے یا کھڑا کر کے نحر کیا جائے۔ اور اگر وہ جانور قابو میں نہ رہے، جیسے جنگلی جانور ہوتے ہیں تو اسے بسم اللہ پڑھ کر تیر یا کتے کے ساتھ شکار کیا جائے۔ ان دو طریقوں کے علاوہ مارا گیا جانور حرام ہوگا۔ اس کا حکم مردار کا ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4331 سے ماخوذ ہے۔