سنن نسائي
كتاب الصيد والذبائح— کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الضَّبِّ باب: ضب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4323
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقِطًا ، وَسَمْنًا ، وَأَضُبًّا ، فَأَكَلَ مِنَ الْأَقِطِ ، وَالسَّمْنِ ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا ، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میری خالہ ( ام حفید رضی اللہ عنہا ) نے مجھے پنیر ، گھی اور ضب دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، آپ نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور کراہت کی وجہ سے ضب چھوڑ دی ، لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کھائی گئی ۱؎ اگر وہ حرام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور نہ ہی آپ اسے کھانے کا حکم فرماتے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دوسروں نے ضب بھی کھایا۔