سنن نسائي
كتاب الصيد والذبائح— کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا غَيْرَهُ باب: جب اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4278
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَعَنِ الْحَكَمِ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ ؟ ، قَالَ : " لَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاتا ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کس نے شکار کیا ؟ ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے ( شکار کو ) مت کھاؤ ، اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر «بسم اللہ» پڑھی تھی ، کسی دوسرے ( کتے ) پر نہیں “ ۔