حدیث نمبر: 4275
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَكَانَ لَنَا جَارًا ، وَدَخِيلًا ، وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ ؟ ، قَالَ : " لَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شعبی کہتے ہیں کہ` عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نہرین میں ہمارے پڑوسی تھے ، ہمارے گھر آتے جاتے تھے اور ایک زاہد شخص تھے ، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو میں اپنے کتے کے ساتھ ایک کتا دیکھتا ہوں جس نے شکار پکڑ رکھا ہے مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے مت کھاؤ ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی ، دوسرے پر نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 4275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، (تحفة الأشراف: 9861)، مسند احمد (4/256) (صحیح)»