حدیث نمبر: 4251
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردار کی کھال کی پاکی ہی اس کی دباغت ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الفرع والعتيرة / حدیث: 4251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4250 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4124 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مردہ جانور کی کھال کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4124]
فوائد ومسائل:
حلال جانور اگر مردار ہو جائے تو اس کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4124 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4249 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مردار جانور کی کھال کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مردار کی کھال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4249]
اردو حاشہ: دباغت کسی بھی ایسی چیز سے دی جا سکتی ہے جو چمڑے کی رطوبت کو ختم کر دے اور بدبو کو زائل کردے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4249 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4257 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دباغت کی ہوئی مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی رخصت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب کہ وہ دباغت دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4257]
اردو حاشہ: (1) محقق کتاب نے مذکورہ روایت کو سنداََ ضعیف قرار دیا ہے جبکہ یہ روایت دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد:504/40 و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي:46،34/33)
(2) حکم دیا یعنی اجازت اور رخصت دی۔ ممکن ہے حکم ہی مراد ہو کیونکہ مال ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4257 سے ماخوذ ہے۔