حدیث نمبر: 4226
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ : سَلْ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَهُ فِي الْعَقِيقَةِ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ` مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا : حسن ( حسن بصری ) سے پوچھو ، انہوں نے عقیقہ کے سلسلے میں اپنی حدیث کس سے سنی ہے ؟ چنانچہ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : یہ حدیث میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب العقيقة / حدیث: 4226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العقیقة 2 (5472م)، سنن الترمذی/الصلاة 133 (182)، (تحفة الأشراف: 4579) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عقیقہ کب ہو؟`
حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا: حسن (حسن بصری) سے پوچھو، انہوں نے عقیقہ کے سلسلے میں اپنی حدیث کس سے سنی ہے؟ چنانچہ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4226]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ صراحت اس لیے فرمائی ہے کہ حضرت حسن بصری کے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے کہ انھوں نے حضرت سمرہ سے درست نہیں۔ بعض درست سمجھتے ہیں۔ یہ امام بخاری اور امام ترمذی کا خیال ہے۔ بعض محدثین صرف اس روایت میں ان کا سماع درست سمجھتے ہیں، باقی میں نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4226 سے ماخوذ ہے۔