سنن نسائي
كتاب البيعة— کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ لَمْ يُعِنْ أَمِيرًا عَلَى الظُّلْمِ باب: ظلم میں امیر کی مدد نہ کرنے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ : خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ , أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ ، فَقَالَ : " اسْمَعُوا ، هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُ ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ، ہم نو لوگ تھے ، پانچ ایک طرح کے اور چار دوسری طرح کے ، ان میں سے کچھ عرب تھے اور کچھ عجم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! کیا تم نے سنا ؟ میرے بعد عنقریب کچھ امراء ہوں گے ، جو ان کے یہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں ، اور نہ وہ میرے پاس ( قیامت کے دن ) حوض پر نہ آ سکے گا ، اور جو ان کے ہاں نہیں گیا ، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی ، اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض پر آئے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: ” سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2259]
وضاحت:
1؎:
یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا: ” میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آ سکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4212]
(2) ظالم حکمرانوں اور بے انصاف امراء سے فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ ان کے شر سے اپنے دین و ایمان کو سلامت رکھا جا سکے۔ ان سے قرب کی صورت میں یا تو ان کے ظلم و زیادتی پر، کسی بھی انداز سے، انہیں تعاون ملے گا یا ان کی تائید ہو گی یا پھر ظلم و زیادتی پر خاموشی اور سکوت کرنا پڑے گا، اور اصلاح کی صورت میں اپنے دین و ایمان کے فساد یا اپنی جان و مال کے اتلاف کا خطرہ ہے، اس لیے عافیت، اور سلامتی ان لوگوں سے دور رہنے ہی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سلف صلاح حکمرانوں سے دور ہی رہا کرتے تاکہ ان کے شر سے اپنے آپ کو اور اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں۔
(3) ’”تصدیق نہ کرے“ یعنی ان کے پاس جائے تو سہی مگر حق پر قائم رہے اور انہیں بھی حق کی طرف دعوت دیتا رہے۔ واقعتا یہ بلند مرتبہ ہے۔