سنن نسائي
كتاب البيعة— کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
بَابُ : بِطَانَةِ الإِمَامِ باب: امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4207
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ ، وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر ( قریبی راز دار ) نہ ہوں ۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے ، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4207]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4207]
اردو حاشہ: یہ بات صرف نبی و خلیفہ ہی سے خاص نہیں، ہر شخص کو اسی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس کو اچھے ساتھی بھی ملتے ہیں اور برے بھی۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس پر غلبہ اچھے ساتھیوں او مشیروں کا ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اور بدنصیب ہے وہ شخص جو برے ساتھیوں اور مشیروں کے زیر اثر رہا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4207 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6611 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6611. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب بھی کوئی شخص خلیفہ بنایا جاتا ہے تو اس کے دو خفیہ مشیر ہوتے ہیں: ایک اسے اچھے کام مشورہ دیتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے اور دوسرا اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اس سے ابھارتا ہے۔ اور معصوم وہ ہے جسے اللہ (گناہوں سے) محفوظ رکھے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6611]
حدیث حاشیہ:
گناہوں اور آفات سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
گناہوں اور آفات سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6611 سے ماخوذ ہے۔