حدیث نمبر: 4174
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مُهَاجِرٌ ، قَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ , وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے رسول ! لوگ کہتے ہیں کہ جنت میں مہاجر کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا ، آپ نے فرمایا : ” فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے ۱؎ ، البتہ جہاد ۲؎ اور نیت ہے ، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو “ ۔

وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہ حکم اہل مکہ کے لیے خاص تھا کہ اب مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہی، ورنہ اس کے علاوہ جہاں بھی ایسی ہی صورت پیش آئے گی ہجرت واجب ہو گی (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۱۷۷) إلا یہ کہ وہاں کے ملکی حالات و قوانین اجازت نہ دیتے ہوں، جیسے اس زمانہ میں اب یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ ایک ملک کے شہری کو کوئی دوسرا ملک قبول کر لے تو ہجرت واجب ہوتے ہوئے بھی آدمی اپنے وطن میں رہنے پر مجبور ہے، یہ مجبوری کی حالت ہے۔ ۲؎: یعنی جہاد کی خاطر گھر بار چھوڑنا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے، اسی طرح خلوص نیت سے محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیسے دینی تعلیم وغیرہ کے لیے گھر سے دور جانا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيعة / حدیث: 4174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4949)، مسند احمد (3/401 و6/465) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ہجرت کے ختم ہو جانے کے سلسلے میں اختلاف روایات کا بیان۔`
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ جنت میں مہاجر کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا، آپ نے فرمایا: " فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے ۱؎، البتہ جہاد ۲؎ اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4174]
اردو حاشہ: فائدہ:تفصیل کے لیے دیکھیے ‘ حدیث: 4165
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4174 سے ماخوذ ہے۔