سنن نسائي
كتاب البيعة— کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
بَابُ : الْبَيْعَةِ عَلَى الأَثَرَةِ باب: اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے پر بیعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ , أَمَّا سَيَّارٌ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، وَأَمَّا يَحْيَى ، فَقَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كَانَ لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " ، قَالَ شُعْبَةُ : سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ : " حَيْثُمَا كَانَ " , وَذَكَرَهُ يَحْيَى . قَالَ شُعْبَةُ : إِنْ كُنْتُ زِدْتُ فِيهِ شَيْئًا , فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ ، أَوْ عَنْ يَحْيَى .
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں سمع و طاعت ( حکم سننے اور اس پر عمل کرنے ) پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہو ۔ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے «حیث ما کان» کا لفظ ذکر نہیں کیا اور یحییٰ نے ذکر کیا ۔ شعبہ کہتے ہیں : اگر میں اس میں کوئی لفظ زائد کروں تو وہ سیار سے مروی ہو گا یا یحییٰ سے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہو۔ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے «حیث ما کان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4159]
1۔
ان احادیث کا فتنوں کے ساتھ اس طرح تعلق ہے کہ جو آدمی کسی ملک کا باضابطہ شہری ہے تو اس پر ملک کے قانون کا احترام کرنا اور باتوں میں حکمرانوں کا کہا ماننا ضروری ہے۔
اگر وہ دیکھتا ہے کہ اسے حقوق نہیں دیے جا رہے یا حکمران غلط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں تو اسے یہ اجازت ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لیے بغیر احتجاج کرے لیکن یہ احتجاج سول نافرمانی کی شکل میں نہیں ہونا چاہیےاور نہ دھرنا دینے اور توڑ پھوڑ کرنے ہی کی اجازت ہے۔
اسی طرح احتجاج کے طور پر خود کش حملے کرنا بھی ناجائز ہے۔
اس سے ملک میں بدامنی، بے چینی انار کی اور فساد پھیلتا ہے۔
یہ بہت بڑا فتنہ ہے جس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔
2۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جن کے انسانی اجسام میں شیطانی دل ہوں گے وہ میرے طریقے کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔
‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایسے حالات میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ایسے حکمرانوں کی بات سنی جائے اور ان کی اطاعت کی جائے اگرچہ وہ تمھارا مال کھا جائیں اور تمھاری پیٹھ پر ماریں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإمارة، حدیث: 4785(1847)
3۔
ایسے حکمران کو اگر بغیر فتنہ و فساد کے معزول کرنا ممکن ہو تو اس کا معزول کرنا ضروری ہے بصورت دیگر صبر کیا جائے۔
ایسے حالات میں خواہ مخواہ حکومت سے ٹکر لینا درست نہیں اور نہ جیل بھرو تحریک ہی شروع کرنی چاہیے۔
4۔
بہرحال ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ حکمت بھرے انداز میں ڈنکے کی چوٹ کلمہ حق کہتا رہے۔
ایسے غلط کار حکمرانوں کے متعلق دل میں نفرت کے جذبات رکھے اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتا رہے۔
مسلح اقدام سے ہر صورت میں گریز کیا جائے۔
اس قسم کی تحریکات سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہےاس قسم کے پرفتن دور میں بڑی دور اندیشی سے کام لینا چاہیے، جذبات میں آ کر کوئی ایسا کام نہ کیا جائے۔
جس سے اسلام یا اہل اسلام کو نقصان پہنچے۔
واللہ أعلم۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوشحالی و تنگی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی رہیں حق پر قائم رہیں، اور (اس سلسلے میں) ہم کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈریں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4154]
(2) شرعی امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر ہر حالت میں واجب ہے۔ حالت تنگی کی ہو یا آسانی کی‘ خوشی کی ہو یا نا خوشی کی۔ بات پسند ہو یا نا پسند‘ یعنی اختلاف احوال سے وجوب اطاعت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بقدر استطاعت ہر حال میں اطاعت کرنی پڑے گی الا یہ کہ کوئی شرعی عذرہو۔
(3) شرعی امیر جب تک خود اطاعت الہٰی پر کار بند رہے گا‘ اس وقت تک اسے معزول کیا جاسکتا ہے نہ اس کی اطاعت ہی سے دست کش ہوا جا سکتا ہے۔ ہاں اگر کسی امیر وامام میں ظاہر کفر دیکھا جائے تو اس کی اطاعت وفرمانبرداری واجب نہیں رہے گی بلکہ اسے معزول کرنے کی اگر طاقت ہوتو اسے معزول بھی کیا جائے گا یا کم از کم اس کی معزولی کی کوشش کی جائے گی۔
(4) حق پر قائم رہنا ‘ نیز حق کا ظہار امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے طور پر کرنا‘ ہر شخص کے لیے ہر جگہ ضروری ہے۔ اس میں کسی ملامت گرکی ملامت کی پروا کرنے کی قطعاََ کوئی ضرورت نہیں۔
(5) "اسانی وتنگی" امیر کے حکم میں ہم پر تنگی آئے یا آسانی، ہم اس پر خوش ہوں یا نا خوش ہوں، اسے پسند کریں یا نا پسند، اس کی اطاعت کریں گے بشرطیکہ وہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔
(6) "نہیں چھینیں گے" یعنی کسی ناراضی کی بنا پر یا امیر کی کسی غلطی کی بنا پر اس کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے الا یہ کہ اس سے صر یح کفر صادر ہوجائے تو پھر اس کی امارت شرعاََ ختم ہوجائے گی۔ بغاوت نہ کرنے کا حکم ہر امیر کے بارے میں ہے ‘خواہ وہ منتخب ہو یا منتخب امیر کا نامزد کردہ۔
(7) "نہیں ڈریں گے" اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی ملامت اور ناراضی کے ڈر سے حق بات کہنے سے نہیں رکیں گے ورنہ گناہ کے مسئلے میں تو لوگوں کی ملامت سے ڈرنا چاہیے تا کہ انسان گناہوں سے بچ سکے۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑ انہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں حق بات کہیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4157]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کی اور اس بات پر کہ ہم اپنے حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑا نہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں حق کہیں گے یا حق پر قائم رہیں گے اور (اس بابت) ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4156]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی اور فراخی، خوشی و ناخوشی، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2866]
فوائد و مسائل:
(1)
امیر کی اطاعت ملک و سلطنت کے نظم وضبط میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
(2)
زندگی میں کئی معاملات ایسے پیش آ سکتے ہیں جب ایک انسان امیر کی اطاعت سے جی چراتا اور اس کی حکم عدولی کی طرف مائل ہوسکتا ہے مثلاً: (ا)
مشکل حالات میں انسان قانونی شکنی پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
(ب)
راحت کے موقع پر آرام چھوڑ کر مشکل حکم کی تعمیل کو جی نہیں چاہتا۔
(ج)
بعض اوقات کام ایسا ہوتا ہے کہ جس کے طبیعت قدرتی طور پر نا پسند کرتی ہے۔
(د)
بعض اوقات انسان خود کوایک منصب کا اہل سمجھتا ہے یا کسی انعام کا مستحق سمجھتا ہے لیکن وہ منصب یا انعام کسی اور کو مل جاتا ہےاور انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کی حق تلفی یا بے قدری ہوئی ہے اس سے دلبرداشتہ ہوگر وہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات یا اپنے فرائض میں دلچسپی کم کردیتا ہے۔
حدیث میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایسے تمام مواقع پر اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے اطاعت امیر میں سرگرم رہنا قرب الہی اور بلندی جذبات کا باعث ہے۔
(3)
حکمران بھی انسان ہوتے ہیں ان سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن یہ غلطیاں بغاوت کا جواز نہیں بنتی کیونکہ بغاوت سے جو بد نظمی پیدا ہوتی ہے اس کا نقصان غلط کار حکمران کی غلطیوں کے نقصان سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
(4)
اطاعت امیر کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صحیح اور غلط بات میں اس کی تائید کی جائے۔
اس کی غلطی کو واضح کرنا چاہیے لیکن مقصد مسلمانوں کا اجتماعی مفاد اور امیر سے خیر خواہی ہو نہ کہ اس پر بے جا تنقید کرکے عوام کو اس کے خلاف ابھارنا اور ملک کے امن وامان کو تباہ کرنا۔
(5)
جس کا م پر ضمیر مطمئن ہو کہ یہ صحیح ہے اور وہ خلاف شریعت بھی نہ ہواور اس سے کوئی بڑی خرابی پیدا ہونے کا خطرہ بھی نہ ہو وہ کرلینا چاہیے اگرچہ لوگ اسے اپنے رسم ورواج یا مفاد کے خلاف سمجھ کر طعن و تشنیع کریں تاہم تنقید کرنے والوں کو دلائل کے ساتھ سمجھانے اور قائل کرنے کی کوشش کرنا مستحسن ہے۔