أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ مُطَرِّفٍ بِالْمِرْبَدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدَمٍ , قَالَ : كَتَبَ لِي هَذِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَهَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَقْرَأُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا أَقْرَأُ , فَإِذَا فِيهَا : " مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ ، أَنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ ، وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ , وَسَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ ، فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
´یزید بن شخیر کہتے ہیں کہ` میں مطرف کے ساتھ کھلیان میں تھا کہ اچانک ایک آدمی چمڑے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور بولا : میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھا ہے ، تو کیا تم میں سے کوئی اسے پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں پڑھوں گا ، تو دیکھا کہ اس تحریر میں یہ تھا : ” اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے : اگر یہ لوگ «لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ» ” اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں “ کی گواہی دیں اور کفار و مشرکین کا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے مال غنیمت میں سے خمس ، نبی کے حصے اور ان کے «صفی» کا اقرار کریں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں رہیں گے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یزید بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مطرف کے ساتھ کھلیان میں تھا کہ اچانک ایک آدمی چمڑے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور بولا: میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی اسے پڑھ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: میں پڑھوں گا، تو دیکھا کہ اس تحریر میں یہ تھا: ” اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے: اگر یہ لوگ «لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ» ” اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں “ کی گواہی دیں اور کفار و مش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4151]