حدیث نمبر: 4151
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ مُطَرِّفٍ بِالْمِرْبَدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدَمٍ , قَالَ : كَتَبَ لِي هَذِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَهَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَقْرَأُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا أَقْرَأُ , فَإِذَا فِيهَا : " مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ ، أَنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ ، وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ , وَسَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ ، فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یزید بن شخیر کہتے ہیں کہ` میں مطرف کے ساتھ کھلیان میں تھا کہ اچانک ایک آدمی چمڑے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور بولا : میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھا ہے ، تو کیا تم میں سے کوئی اسے پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں پڑھوں گا ، تو دیکھا کہ اس تحریر میں یہ تھا : ” اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے : اگر یہ لوگ «لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ» ” اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں “ کی گواہی دیں اور کفار و مشرکین کا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے مال غنیمت میں سے خمس ، نبی کے حصے اور ان کے «صفی» کا اقرار کریں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں رہیں گے “ ۔

وضاحت:
۱؎: «صفی» مالِ غنیمت کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے حاکم تقسیم سے قبل اپنے لیے مقرر کر لے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قسم الفىء / حدیث: 4151
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الخراج 21 (2999)، (تحفة الأشراف: 15683)، مسند احمد (5/77، 78، 363) (صحیح الإسناد)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2999

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´باب:`
یزید بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مطرف کے ساتھ کھلیان میں تھا کہ اچانک ایک آدمی چمڑے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور بولا: میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی اسے پڑھ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: میں پڑھوں گا، تو دیکھا کہ اس تحریر میں یہ تھا: اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے: اگر یہ لوگ «لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں کی گواہی دیں اور کفار و مش۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4151]
اردو حاشہ: صحیح بات یہی ہے کہ نبیٔ اکرم ﷺ کا عمومی و خصوصی حصہ بھی خمس میں شامل ہے، اگرچہ ظاہر الفاظ مال غنیمت اور مال فے کی تقسیم کے مسائل ان حصوں کو خمس سے الگ ظاہر کررہے ہیں۔ باقی روایات کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ (دیکھیے فوائد‘حدیث:4143،4144)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4151 سے ماخوذ ہے۔