حدیث نمبر: 4150
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ سورة الأنفال آية 41 ، قَالَ : قُلْتُ : " كَمْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ ؟ قَالَ : خُمُسُ الْخُمُسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مطرف کہتے ہیں کہ` عامر شعبی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور آپ کے صفی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ایک مسلمان شخص کے حصے کی طرح ہوتا تھا ۔ رہا «صفی» ۱؎ کے حصے کا معاملہ تو آپ کو اختیار ہوتا کہ غلام ، لونڈی اور گھوڑے وغیرہ میں سے جسے چاہیں لے لیں ۔
وضاحت:
۱؎: «صفی» مالِ غنیمت کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے حاکم تقسیم سے قبل اپنے لیے مقرر کر لے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´باب:`
مطرف کہتے ہیں کہ عامر شعبی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور آپ کے صفی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ایک مسلمان شخص کے حصے کی طرح ہوتا تھا۔ رہا «صفی» ۱؎ کے حصے کا معاملہ تو آپ کو اختیار ہوتا کہ غلام، لونڈی اور گھوڑے وغیرہ میں سے جسے چاہیں لے لیں۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4150]
مطرف کہتے ہیں کہ عامر شعبی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور آپ کے صفی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ایک مسلمان شخص کے حصے کی طرح ہوتا تھا۔ رہا «صفی» ۱؎ کے حصے کا معاملہ تو آپ کو اختیار ہوتا کہ غلام، لونڈی اور گھوڑے وغیرہ میں سے جسے چاہیں لے لیں۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4150]
اردو حاشہ: (1) ”صفی“ اس خصوصی حصے کو کہا جاتا ہے جو امام و رئیس مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اپنی ذات کے لیے چن لے، مثلاً: لونڈی، غلام، اونٹ اور گھوڑا وغیرہ۔
(2) گویا آپ کو خمس میں مکمل اختیار تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو اپنے لیے خصوصی طور پر پسند فرما سکتے تھے جیسے آپ نے خیبر کے قیدیوں سے حضرت صفیہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کو پسند فرمایا اور ان کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا۔
(3) دلائل کی رو سے مذکورہ روایت مرسل صحیح ہے۔
(2) گویا آپ کو خمس میں مکمل اختیار تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو اپنے لیے خصوصی طور پر پسند فرما سکتے تھے جیسے آپ نے خیبر کے قیدیوں سے حضرت صفیہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کو پسند فرمایا اور ان کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا۔
(3) دلائل کی رو سے مذکورہ روایت مرسل صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4150 سے ماخوذ ہے۔