حدیث نمبر: 4149
أخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث قال حدثنا محبوب قال أنبأنا أبو إسحاق عن موسى بن أبي عائشة قال سألت يحيى بن الجزار عن هذه الآية { واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول } قال قلت كم كان للنبي صلى الله عليه وسلم من الخمس قال خمس الخمس .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ` میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت : «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول» کے بارے میں پوچھا ، میں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خمس میں سے کتنا حصہ ہوتا تھا : انہوں نے کہا : خمس کا خمس ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ، کیونکہ خمس کا اکثر حصہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی کاموں میں خرچ کر دیتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´باب:`
موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت: «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول» کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خمس میں سے کتنا حصہ ہوتا تھا: انہوں نے کہا: خمس کا خمس ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4149]
موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت: «واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول» کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خمس میں سے کتنا حصہ ہوتا تھا: انہوں نے کہا: خمس کا خمس ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4149]
اردو حاشہ: فائدہ: آیت کے ظاہر الفاظ سے استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ پانچ مصارف ذکر ہیں، لہٰذا ہر مصرف میں خمس کا پانچواں حصہ صرف کیا جائے گا لیکن یہ استدلال درست نہیں کیونکہ آیت میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ ہر ایک کو برابر رکھو بلکہ یہ تو حالات و حاجات پر موقوف ہے۔ جس مصرف میں زیادہ کی ضرورت ہے، وہاں زیادہ صرف کیا جائے اور جس میں کم ضرورت ہے، وہاں کم خرچ کیا جائے۔ کسی ایک کا حصہ مقرر نہیں۔ روایت میں مذکور یحییٰ بن جزار کو غالی شیعہ کہا گیا ہے۔ و اللہ أعلم۔ ویسے وہ سچا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4149 سے ماخوذ ہے۔