أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق وَهُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , إِلَى عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ كِتَابًا فِيهِ : " وَقَسْمُ أَبِيكَ لَكَ الْخُمُسُ كُلُّهُ ، وَإِنَّمَا سَهْمُ أَبِيكَ كَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَفِيهِ حَقُّ اللَّهِ ، وَحَقُّ الرَّسُولِ ، وَذِي الْقُرْبَى , وَالْيَتَامَى , وَالْمَسَاكِينِ , وَابْنِ السَّبِيلِ ، فَمَا أَكْثَرَ خُصَمَاءَ أَبِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَكَيْفَ يَنْجُو مَنْ كَثُرَتْ خُصَمَاؤُهُ , وَإِظْهَارُكَ الْمَعَازِفَ وَالْمِزْمَارَ بِدْعَةٌ فِي الْإِسْلَامِ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ إِلَيْكَ مَنْ يَجُزُّ جُمَّتَكَ جُمَّةَ السُّوءِ " .
´اوزاعی کہتے ہیں کہ` عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا : تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خمس ( پانچواں حصہ ) تمہیں دے دیا ، حالانکہ تمہارے باپ کا حصہ ایک عام مسلمان کے حصے کی طرح ہے ، اس میں اللہ کا حق ہے اور رسول ، ذی القربی ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے ۔ تو قیامت کے دن تمہارے باپ سے جھگڑنے والے اور دعوے دار کس قدر زیادہ ہوں گے ، اور جس شخص پر دعوے دار اتنی کثرت سے ہوں گے وہ کیسے نجات پائے گا ؟ اور جو تم نے باجے اور بانسری کو رواج دیا ہے تو یہ سب اسلام میں بدعت ہیں ، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تمہارے پاس ایسے شخص کو بھیجوں جو تمہارے بڑے بڑے اور برے لٹکتے بالوں کو کاٹ ڈالے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اوزاعی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا: تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خمس (پانچواں حصہ) تمہیں دے دیا، حالانکہ تمہارے باپ کا حصہ ایک عام مسلمان کے حصے کی طرح ہے، اس میں اللہ کا حق ہے اور رسول، ذی القربی، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ تو قیامت کے دن تمہارے باپ سے جھگڑنے والے اور دعوے دار کس قدر زیادہ ہوں گے، اور جس شخص پر دعوے دار اتنی کثرت سے ہوں گے وہ کیسے نجات پائے گا؟ اور جو تم نے باجے اور بانسری کو رواج دیا ہے تو یہ سب اسلام میں بدعت ہی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب قسم الفىء/حدیث: 4140]
(2) عمر بن ولید خلیفہ ولید بن عبدالملک کا بیٹا تھا۔ یہ شہزادے محلوں میں اور سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے۔ عیش و عشرت ان کی گھٹی میں پڑ چکی تھی، اس لیے اس کے قبیح کاموں پر اس کو ڈانٹ پلائی۔ رَحِمَه اللّٰہُ رَحْمَة وَّاسِعَة۔
(3) حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی اگرچہ شہزادے ہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی کایا پلٹ دی تھی۔ خلیفہ بننے کے بعد تو وہ "حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ " ہی بن گئے تھے حتیٰ کہ تاریخ نے ان کو "عمر ثانی" کا لقب دیا اگرچہ ان کو صرف اڑھائی سال حکومت کا موقع ملا اور وہ صرف سینتیس (37) سال کی عمر میں اپنے مولا کو پیارے ہو گئے۔ صحابی نہ ہونے کے باوجود ان کے لیے رَضِيَ اللّٰہُ عَنْه وَ أَرْضَاہُ کہنے کو جی کرتا ہے۔
(4) "لمبے لمبے قبیح بال" لمبے بال رکھنا منع نہیں۔ ممکن ہے اس نے لمبے بالوں کو تکبر کا ذریعہ بنا لیا ہو۔ اور لمبے بال اس کے لیے یا دوسروں کے لیے فتنہ بن گئے ہوں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کا سر منڈا دیا تھا جس کی زلفیں دوسروں کے لیے فتنے کا باعث تھیں۔ (تاریخ دمشق الکبیر: 33/17، 20) اس صورت میں یہ انتظامی مسئلہ بن جاتا ہے جو قابل گرفت ہوتا ہے، نیز لڑکوں اور لڑکیوں کا حد سے زیادہ زیب و زینت کی طرف توجہ دینا ہلاکت کا باعث ہے۔