حدیث نمبر: 4139
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى : لِمَنْ هُوَ ؟ ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ : وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبْتُ إِلَيْهِ : " كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى : لِمَنْ هُوَ ؟ وَهُوَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ , وَقَدْ كَانَ عُمَرُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا ، وَيُحْذِيَ مِنْهُ عَائِلَنَا ، وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا ، فَأَبَيْنَا إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَهُ لَنَا , وَأَبَى ذَلِكَ , فَتَرَكْنَاهُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ` نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ سوال لکھا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) رشتہ داروں کا حصہ ( آپ کے بعد ) کس کا ہے ؟ نجدہ کے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جواب میں نے ہی لکھ کر بھیجا ، میں نے لکھا کہ تم نے یہ سوال مجھے لکھ کر بھیجا ہے کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) رشتہ داروں کا حصہ کس کا ہے ؟ وہ ہم اہل بیت کا ہے ۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا کہ وہ اس مال سے ہماری بیواؤں کا نکاح کرائیں گے ، اس کو ہمارے فقراء و مساکین پر خرچ کریں گے اور ہمارے قرض داروں کا قرض ادا کریں گے ، لیکن ہم اصرار کرتے رہے کہ وہ ہم ہی کو دیا جائے ، تو انہوں نے اس سے انکار کیا ، لہٰذا ہم نے اسے انہیں پر چھوڑ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قسم الفىء / حدیث: 4139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»