حدیث نمبر: 4120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ عَصَبِيَّةً , وَيَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : عِمْرَانُ الْقَطَّانُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص عصبیت کے جھنڈے تلے لڑے اور وہ اپنی قوم کی عصبیت میں لڑے یا عصبیت میں غصہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : عمران القطان زیادہ قوی نہیں ہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مسلم کی سند میں عمران القطان نہیں ہیں، بلکہ ان کی جگہ معتمر بن سلیمان التیمی ہیں، قتادہ بھی نہیں ہیں، ان کی جگہ سلیمان التیمی ہیں، اس لیے حدیث صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4120
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة 13 (1850)، (تحفة الأشراف: 3267) (صحیح)»