حدیث نمبر: 4101
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ سَوَادَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو جعفر الباقر کہتے ہیں کہ` میں سوید بن مقرن کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے وہ شہید ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4812) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جو شخص ظلم سے بچنے کے لیے لڑے۔`
ابو جعفر الباقر کہتے ہیں کہ میں سوید بن مقرن کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم سے بچنے میں مارا جائے وہ شہید ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4101]
اردو حاشہ: کوئی ظالم کسی مظلوم کا حق چھیننا چاہتا ہے اور مال حوالے نہ کرنے کی صورت میں اسے قتل کی دھمکی دیتا ہے۔ مظلوم کو اجازت ہے کہ اس سے لڑ کر اپنا حق بچا لے اور اگر اس کوشش میں وہ مارا جائے تو وہ عنداللہ شہید ہو گا اور اگر ظالم مارا جائے تو اس کا خون ضائع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4101 سے ماخوذ ہے۔