سنن نسائي
كتاب تحريم الدم— کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ تُعُرِّضَ لِمَالِهِ باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي . قَالَ : " فَانْشُدْ بِاللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ . قَالَ : " فَانْشُدْ بِاللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ . قَالَ : " فَانْشُدْ بِاللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ . قَالَ : " فَقَاتِلْ ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” انہیں اللہ کی قسم دو “ ، اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تم انہیں اللہ کی قسم دو “ ، اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں تو ؟ آپ نے فرمایا : ” تم انہیں اللہ کی قسم دو “ ، اس نے کہا : اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو ؟ آپ نے فرمایا : ” تو تم ان سے لڑو ، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہو گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” انہیں اللہ کی قسم دو “، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ” تم انہیں اللہ کی قسم دو “، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ” تم انہیں اللہ کی قسم دو “، اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ” تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4088]