حدیث نمبر: 4087
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي . قَالَ : " فَانْشُدْ بِاللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ . قَالَ : " فَانْشُدْ بِاللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ . قَالَ : " فَانْشُدْ بِاللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ . قَالَ : " فَقَاتِلْ ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا کیا حکم ہے اگر کوئی میرا مال ظلم سے لینے آئے ؟ آپ نے فرمایا : ” انہیں اللہ کی قسم دو “ ، اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : ” انہیں اللہ کی قسم دو “ , اس نے کہا : اگر وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : ” انہیں اللہ کی قسم دو “ ، اس نے کہا : پھر بھی وہ نہ مانیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر ان سے لڑو ، اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے ۱؎ اور اگر تم نے انہیں مار دیا تو وہ جہنم میں ہوں گے “ ۔

وضاحت:
۱؎: جنت میں جانے کے اسباب میں سے ایک سبب اپنے مال کی حفاظت میں مارا جانا بھی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کسی کے پاس نہ عقیدہ صحیح ہو نہ ہی صوم و صلاۃ اور دوسرے احکام شریعت کی پاکی پابندی اور ایسا آدمی اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے تو سیدھے جنت میں چلا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4087
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14276)، مسند احمد (2/339، 360) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حکم ہے اگر کوئی میرا مال ظلم سے لینے آئے؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو , اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: انہیں اللہ کی قسم دو ، اس نے کہا: پھر بھی وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: پھر ان سے لڑو، اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے ۱؎ اور اگ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4087]
اردو حاشہ: وہ آگ میں جائے گا مقصود یہ ہے کہ اس کے قتل پر کوئی تاوان نہیں دینا پڑے گا بلکہ اس کا خون رائیگاں ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4087 سے ماخوذ ہے۔