حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قالت : " وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً ، قَالَتْ : فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ ، قَالَتْ : ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا ، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا ، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا ، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں ( لینا ) چاہا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الغسل والتيمم / حدیث: 408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں (لینا) چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 408]
408۔ اردو حاشیہ: وضاحت کے لیے دیکھیے، حدیث 254، 255 اور ان کے فوائدومسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 408 سے ماخوذ ہے۔