سنن نسائي
كتاب الغسل والتيمم— کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل
بَابُ : الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الاِغْتِسَالِ باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 407
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سِتِّيرٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ عزوجل «ستر» ” پردہ پوشی کرنے والا “ ہے ، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 406 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔`
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» ” بردبار “، «حیی» ” باحیاء “ اور «ستر» ” پردہ پوشی پسند فرمانے والا “ ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» ” بردبار “، «حیی» ” باحیاء “ اور «ستر» ” پردہ پوشی پسند فرمانے والا “ ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
406۔ اردو حاشیہ: ➊ حلیم۔ حی۔ ستیر اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام صفات کاملہ سے متصف ہے اور وہ صفات اللہ تعالیٰ میں اس کی شان کے مطابق متحقق ہوتی ہیں۔ ہمیں ان کی حقیقت سے متعلق بحث نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہم ان کی حقیقت کو جان ہی سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ہماری عقل سے ماور ا ہیں۔ ارشادالٰہی ہے: ﴿لیس کمثله شیء﴾ [الشوریٰ42: 11]
’’اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ ان صفات کو تسلیم کرنا اور بلاوجہ ان کی من گھڑت تاویلات سے اجتناب ضروری ہے، ورنہ قرآن و حدیث کا انکار لازم آسکتا ہے۔
➋ غسل اس طرح پردے میں ہونا چاہیے کہ جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ یہ بہتر ہے۔ اس طرح انسان جن و انس کے برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ورنہ نظر وغیرہ لگنے کا خطرہ رہے گا، نیز اس سے شرم و حیا میں اضافہ ہو گا۔ اور شرم و حیا ایمان کا جز ہے۔
’’اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ ان صفات کو تسلیم کرنا اور بلاوجہ ان کی من گھڑت تاویلات سے اجتناب ضروری ہے، ورنہ قرآن و حدیث کا انکار لازم آسکتا ہے۔
➋ غسل اس طرح پردے میں ہونا چاہیے کہ جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ یہ بہتر ہے۔ اس طرح انسان جن و انس کے برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ورنہ نظر وغیرہ لگنے کا خطرہ رہے گا، نیز اس سے شرم و حیا میں اضافہ ہو گا۔ اور شرم و حیا ایمان کا جز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 406 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4012 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ننگا ہونا منع ہے۔`
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (میدان میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4012]
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (میدان میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4012]
فوائد ومسائل:
1۔
کھلی جگہ میں بے لباس ہو کرغسل کرنا حرام ہے، واجب ہے کہ کپڑا پہن کر نہائے حتی کے میت کو عریاں بھی جائز نہیں۔
2: داعی حضرات پر واجب ہے کہ جب لوگوں میں اور معاشرے میں کوئی خلاف شرح بات دیکھیں تو اس پر لوگوں کو منتبہ کریں۔
3: اللہ عزوجل کے اسمائے حسنی وصفات علیا میں سے ایک ستیر بھی ہے (س کی زیر اور ت کی شد کے ساتھ) یعنی بندوں کے عیوب کی زیادہ پردہ پوشی کرنے والا۔
1۔
کھلی جگہ میں بے لباس ہو کرغسل کرنا حرام ہے، واجب ہے کہ کپڑا پہن کر نہائے حتی کے میت کو عریاں بھی جائز نہیں۔
2: داعی حضرات پر واجب ہے کہ جب لوگوں میں اور معاشرے میں کوئی خلاف شرح بات دیکھیں تو اس پر لوگوں کو منتبہ کریں۔
3: اللہ عزوجل کے اسمائے حسنی وصفات علیا میں سے ایک ستیر بھی ہے (س کی زیر اور ت کی شد کے ساتھ) یعنی بندوں کے عیوب کی زیادہ پردہ پوشی کرنے والا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4012 سے ماخوذ ہے۔