حدیث نمبر: 4052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: مردہ کے ہاتھ پاؤں اور کان ناک کاٹ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تحريم الدم / حدیث: 4052
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1389) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مردہ کا مثلہ کرنا منع ہے۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4052]
اردو حاشہ: (1) مثلہ سے مراد مقتول کے اعضاء (کان، ناک، شرم گاہ وغیرہ) کاٹنا ہے تاکہ لاش کی تذلیل کی جائے۔ جنگوں میں اس کا عام رواج تھا۔ کفار اس کو فخر سے کرتے تھے۔ اسلام ایک سنجیدہ دین ہے، اس لیے آپ نے جنگوں میں بھی اور دشمنوں کے ساتھ بھی مثلہ سے روک دیا، البتہ اگر کسی قاتل نے اپنے مقتول کے ساتھ قتل سے پہلے یا بعد میں ایسا سلوک کیا ہو تو اس کے ساتھ بھی وہی سلوک اسی طرح کیا جائے گا تاکہ قصاص کا حق ادا ہو اور اس فعل کی حوصلہ شکنی ہو۔
(2) بعض لوگوں نے مثلہ کرنے کی ممانعت والی حدیث کی وجہ سے حدیث عرنیین کو منسوخ کہا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کی تبویب سے ظاہراً یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے سابقہ ترجمۃ الباب کے بعد النہی عن المثلۃ کا باب باندھا ہے۔ اس سے یوں لگتا ہے گویا کہ انہی لوگوں کی رائے کو ترجیح دی گئی ہے لیکن یہ بات درست نہیں جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے، بلکہ راجح بات یہ ہے کہ حدیث عرنیین منسوخ نہیں کیونکہ عرنیین کا مثلہ رسول اللہ ﷺ نے ہرگز ہرگز نہیں کیا تھا، ان کے ساتھ جو کچھ بھی کیا گیا وہ بطور قصاص ہی تھا۔ چونکہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کے ساتھ اسی طرح کیا تھا، اس لیے قصاصاً ان کے ساتھ بھی اسی طرح کیا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، سنن نسائی کی حدیث: 4048 اور حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی صحیح مسلم کی حدیث: 1671 میں یہ صراحت موجود ہے کہ [إنَّما سمَل النَّبيُّ أعيُنَ أولئكَ لأنَّهم سمَلوا أعيُنَ الرِّعاءِ ] نبی ﷺ نے ان لوگوں کی آنکھیں محض اس لیے پھوڑیں کہ انہوں نے چرواہوں کے آنکمیں پھوڑی تھیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے قبیلہ عکل اور عرینہ کے لوگوں اور یہودی کی سزا والی احادیث کے بعد یہ روایت یہ اشارہ کرنے کے لیے ہی ذکر کی ہو کہ مندرجہ بالا احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں ورنہ صحابہ ضرور تنبیہ فرماتے خصوصاً جبکہ ان تینوں قسم کی احادیث، یعنی حدیث عرنیین، انصاری لڑکی کے قصاص میں یہودی کو قتل کرنے اور مثلہ کرنے کی ممانعت والی حدیث کے راوی حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ (مزید دیکھئے، حدیث: 4039)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4052 سے ماخوذ ہے۔